خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 188

خطبات مسرور جلد پنجم 188 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء نبھانے والے تھے اور پھر میں نے دیکھا کہ جہاں ہماری رہائش تھی ، وہاں گھر میں بعض چھوٹے چھوٹے کام ہونے والے تھے تو مستریوں کو لا کر کھڑے ہو کر اپنی نگرانی میں کام کرواتے تھے، حالانکہ اس وقت ان کو کمزوری کافی تھی۔خلافت سے عشق کی میں نے کچھ باتیں بتائی ہیں، کچھ آگے بتاؤں گا۔پھر ان میں تو کل بڑا تھا۔اللہ تعالیٰ سے بڑا محبت کا تعلق تھا، تو کل تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت عشق تھا اور وہی عشق آگے خلافت سے چل رہا تھا اور خلافت سے عقیدت اور اطاعت بہت زیادہ تھی۔پھر لوگوں سے بے لوث محبت تھی۔خدمت کا جذبہ تھا۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بے انتہا احترام کیا کرتے تھے، درویشان سے آپ کو بڑی محبت تھی۔بلکہ ایک دفعہ کسی نے درویشان کے متعلق بعض ایسے الفاظ کہے جو آپ کو پسند نہیں آئے تو اس پر آپ نے بڑی ناپسندیدگی کا اور ناراضگی کا اظہار کیا۔حالانکہ طبیعت ان کی ایسی تھی کہ لگتا نہیں تھا کہ کبھی ناراضگی کا اظہار کر سکیں گے۔لیکن درویشان کی غیرت ایسی تھی کہ اس کو برداشت نہیں کر سکے۔مہمان نوازی آپ کا بڑا خاصہ تھی۔رات کے وقت آپ کو کوئی ملنے آ جاتا تو بڑی خوشی اور خندہ پیشانی سے ملتے۔آپ کی بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ عیدین کے موقع پر مجھے خاص طور پر بیواؤں سے ملنے اور انہیں تحفہ پیش کرنے کے لئے بھجواتے تھے۔اگر کوئی عورت، مرد بیمار ہو جاتا تو اس کی عیادت کے لئے جاتے اور اگر کوئی زیادہ بیمار ہوتا تو اس کو امرتسر ہسپتال بھجوانے کا انتظام کرتے تھے۔انہوں نے درویشوں کو بالکل بچوں کی طرح پالا ہے۔مہمان نوازی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم تین مہینے باہر رہ کر آئے اور گھر آئے ہیں تو کوئی مہمان آ گیا۔تو انہوں نے کہا مہمان آیا ہے کچھ کھانے پینے کو بھجواؤ تو میں نے کہا ابھی تو ہم اترے ہیں۔پتہ نہیں گھر میں کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں، کیا بھیجوں؟ تو میاں صاحب نے کہا اس قسم کے جواب نہیں دینے چاہئیں۔تلاش کرو، کچھ نہ کچھ مل جائے گا، خیر بسکٹوں کا ایک ڈبہ مل گیا وہ بھجوایا۔تو ذرا ذراسی بات کا خیال رکھنے والے تھے۔غیروں سے تعلقات کے پہلے تو یہ حالات تھے پھر یہ تعلقات بھی اتنے وسیع ہوئے کہ ہر کوئی گرویدہ تھا۔اب جب میں 2005 ء میں دورے پر گیا ہوں، ہوشیار پور بھی ہم گئے ہیں۔وہاں رہنے والی بعض اہم شخصیتوں نے آپ کی وجہ سے مجھے بھی اپنے گھروں میں بلوایا اور بڑا محبت کا اظہار کیا۔سکھوں میں سے، ہندوؤں میں سے، جو بھی غیر ملتے تھے آپ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے اور آپ کے اخلاق کے معترف تھے۔اب بھی آپ کی وفات پہ بہت سارے پڑھے کہ ے لکھے سکھ ، ہندو آئے۔ممبر آف پارلیمنٹ، کاروباری لوگ ، وکلاء، غریب آدمی ، بلکہ ایک اسمبلی کے سابق سپیکر بھی آئے ، سب کی آوازیں میں ویڈیو میں سن رہا تھا۔انتہائی تعریف کر رہے تھے کہ ایسا شخص ہے جنہوں نے مذہب سے بالا ہو کر ہمارے سے تعلق رکھا اور ہمیں بھی یہی سکھایا کہ انسانیت کے ناطوں کو مضبوط کرنا چاہئے ، انسانیت کے رشتوں کو مضبوط کرنا چاہئے۔ہر ایک ان کا گرویدہ تھا۔بے شمار چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں جو