خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد پنجم 161 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء بننے کی کوشش کی۔لیکن انسان پہلے ناقص ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔پہلے وہ بچہ ہوتا ہے پھر اسے عقل آتی ہے تو وہ نماز شروع کرتا ہے۔اس کے بعد ایک دن کی نماز اسے کچھ اور آگے لے جاتی ہے۔دو دن کی نماز اُسے اور آگے لے جاتی ہے تین دن کی نماز اُسے اور آگے لے جاتی ہے۔اس طرح وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ جیسے آج سے اربوں ارب سال پہلے تھا اسی طرح آج بھی ہے۔اس کی قدوسیت نہ پہلے کم تھی اور نہ آج زیادہ ہے۔(تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه 207 مطبوعه ربوه اس کی قدوسیت اور ہر صفت ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ کی صفت قدوسیت سے صحیح طور پر مؤمن اسی وقت حصہ لے سکتا ہے جب اس قدوس خدا کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ایک مومن اپنی عبادتوں اور نیکیوں میں ترقی کرے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ فرشتوں کی یہ بات کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو کہا کہ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لک کہ ہم جو ہیں تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرنے والے اور تجھ میں سب بڑائیوں کے پائے جانے کا اقرار کرنے والے تو پھر آدم کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔تو جب فرشتوں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے یعنی یہ تو ٹھیک ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو کہ فساد کریں گے۔فساد تو کریں گے مجھے بھی پتہ ہے لیکن تمہیں ایک بات کا نہیں پتہ کہ اب انسانی افعال شریعت کے تابع ہوں گے اور جو شریعت کے مطابق عمل کرنے والے اور صفت قدوسیت سے حصہ لینے کے لئے نیکیوں میں بڑھنے والے ہوں گے تو وہ پھر فرشتوں سے بھی بڑھ جائیں گے۔اس چیز کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ آدم کو خلیفہ بنانے کے موقعہ پر جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرمایا وہ بھی درست تھا اور جوفرشتوں نے کہا وہ بھی درست تھا جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے، صرف نقطہ نگاہ کا فرق تھا۔اللہ تعالیٰ کی نظر ان صلحاء پر تھی جو آدم کی نسل میں ظاہر ہونے والے تھے اور اس نظام کی خوبیوں پر تھی جو آدم اور اس کے اظلال کے ذریعہ سے دنیا میں قائم ہونے والا تھا لیکن فرشتوں کی نظر ان بدکاروں پر تھی جو انسانی دماغ کی تکمیل کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا موردعتاب بننے والے تھے۔خدا تعالیٰ آدم کی پیدائش میں محمدی جلوہ کو دیکھ رہا تھا اور فرشتے بوجہلی صفات کے ظہور کو دیکھ کر لرزاں و ترساں تھے۔( پریشان تھے ) اور گو یہ درست ہے کہ جو کچھ فرشتوں نے خلافت کے قیام سے سمجھا تھا درست تھا مگر ان کا یہ خوف کہ ایسا نظام دنیا کے لئے لعنت کا موجب نہ ہو، غلط تھا۔کیونکہ کسی نظام کی خوبی کا اس کے اچھے ثمرات سے اندازہ کیا جاتا ہے نہ کہ اس میں کمزوری دکھانے والوں کے ذریعہ سے۔اگر کسی اچھے کام کو اس کے درمیانی خطرات کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے تو کوئی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔ہر بڑا کام اپنے ساتھ خطرات رکھتا ہے۔آپ اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ طالب علم، علم کے سیکھنے میں جانیں ضائع کر دیتے ہیں“۔مگر علم سیکھنا ترک نہیں کیا جاتا۔اسی طرح ملکوں میں فوجوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو لوگ فوج میں جانے سے رک نہیں جاتے یا جنگیں ختم نہیں ہو