خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 160
160 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اور کتاب الہی پر اعتراض کر بیٹھتا ہے۔مگر تم ہمیشہ یہ لحاظ رکھو کہ جو معنی کرو اس میں دیکھ لو کہ خدا کی صفت قدوسیت کے خلاف تو نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے سارے کلام حق و حکمت سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں جس سے اس کی اور اس کے رسول اور عامۃ المومنین کی عزت و بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔حقائق الفرقان جلد 4 صفحه 83-84 مطبوعه ربوه ) یہاں میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہتعالیٰ عنہ کی نصیحت کا بھی ذکر کر دیتاہوں جو اس حوالے سے آپ نے جماعت کو کی۔اور بڑی اہم اور پیاری نصیحت ہے جسے ہر احمدی کو چاہئے کہ وہ چاہے پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ ہے، امیر ہے یا غریب ہے، مرد ہے یا عورت ہے اپنے پلے باندھے کہ اصلاح نفس کے لئے بڑی ضروری ہے اور اس سے عبادت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔آپ فرماتے ہیں کہ: جو ان پڑھ ہیں انہیں کم از کم یہی چاہئے کہ وہ اپنے چال و چلن سے خدا کی تنزیہ کریں۔یعنی اپنے طرز عمل سے دکھا ئیں کہ قدوس خدا کے بندے، پاک کتاب کے ماننے والے، پاک رسول کے متبع اور اس کے خلفاء اور پھر خصوصاً اس عظیم الشان مجد د کے پیر وایسے پاک ہوتے ہیں۔(حقائق الفرقان جلد 4 صفحه 372-73 3 مطبوعه ربوه ) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیرو ایسے ہوتے ہیں۔اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کریں۔پس خدا تعالی کو ہر عیب سے، ہر خرابی سے پاک سمجھنا اس وقت صحیح ہو گا جب ہم اپنے ہر قول وفعل سے اس کا اظہار کر رہے ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں اس کے لئے وسیع اور بہت علم کی ضرورت نہیں ہے۔ان پڑھ سے ان پڑھ احمدی کو بھی پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کیا احکامات ہیں۔خطبات میں تقریروں میں اور درسوں میں سنتا ہے کہ کن باتوں کے کرنے کا حکم ہے اور کن باتوں سے روکا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا نمونے قائم کر کے دکھائے ہیں۔ایک احمدی سے خدا تعالی کی قدوسیت کی صفت پر یقین کا اظہار اسی وقت ہوگا جب وہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے اور پاک ہو، تو تبھی اس زمانے کے امام کو ماننے کا فائدہ ہے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ 'یاد رکھو، خدا قدوس ہے اس کا مقرب نہیں بن سکتا مگر وہی جو پاک ہو۔( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 356) تو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے اور قرب پانے کے لئے دعاؤں کی قبولیت کی بھی ضرورت ہے۔اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔لیکن اس سے پہلے اپنے آپ کو پاک کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔اس صفت کے ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی نیکی کیسی ہوتی ہے۔یعنی نیک عمل کرتا ہے تو اس کو اس کا بدلہ ملتا ہے یا اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نیکی ذاتی ہوتی ہے۔اسی لئے خدا قدوس کہلاتا ہے لیکن انسان قدوس نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ اپنی ذات میں بے عیب ہے، یعنی خدا تعالیٰ اپنی ذات میں بے عیب ہے اور انسان بے عیب کوشش سے بنتا ہے۔اس صفت کو اس وقت حاصل کرو گے جب کوشش کر کے بے عیب ہو گئے۔خدا تعالیٰ پر کوئی وقت ایسا نہیں آیا جب وہ ناقص تھا اور پھر اس نے کامل