خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد پنجم 162 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء جاتیں یا اپنے ملک کی حفاظت ختم نہیں ہو جاتی۔پس گو خلافت کے قیام سے انسانوں کا ایک حصہ مور د سزا بنے والا تھا۔اور مفسد اور قاتل قرار پانے والا تھا۔مگر ایک دوسرا حصہ خدا تعالیٰ کا محبوب بنے والا تھا اور فرشتوں سے بھی اوپر جانے والا تھا۔وہ کامیاب ہونے والا حصہ ہی انسانی نظام کا موجب تھا اور اس حصہ پر نظر کر کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انسانی نظام نا کام رہا بلکہ حق تو یہ ہے کہ اس اعلیٰ حصہ کا ایک ایک فرد اس قابل تھا کہ اُس کی خاطر اس سارے نظام کو تیار کیا جاتا۔اسی حکمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے کامل بندوں سے فرمایا ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْيَا (ابن عساکر) کہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم دنیا جہان کے نظام کو ہی پیدا نہ کرتے۔یہ حدیث قدسی ہے اور رسول کریم ﷺ کی نسبت وارد ہوئی ہے۔بعض اور کامل وجودوں کو بھی اسی قسم کے الہام ہوئے ہیں۔پس یہ کامل لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہی حکمت کے مطابق تھا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد اول صفحه (283-284 ایسے اللہ والے جو فرشتوں کی نسبت بہت بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کرتے ہیں اور پھر اس کو دنیا میں پھیلاتے ہیں یہ یقیناً اس سے اونچا مقام رکھنے والے ہیں جن کی تقدیس کرنا صرف اپنے تک ہے۔انسانوں میں تقدیس کرنے والوں کی کامل ترین مثال جیسا کہ ابھی بیان ہوا آنحضرت ﷺ کی ہے جنہوں نے ایک دنیا کے دماغوں کو بھی پاک کیا اور ان کے اعمال کو بھی پاک کیا۔اور آج تک ہم اس قدوس خدا کے حقیقی پر تو کے فیض کو دیکھ رہے ہیں اور جب تک یہ دنیا قائم ہے، دنیا دیکھتی رہے گی انشاء اللہ۔سورۃ جمعہ میں قدوس لفظ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ : " دوسری صفت یہ بیان کی تھی کہ وہ الْقُدُّوس ہے، اس کے متعلق فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمُ آینه وَيُزَكِّيهِمُ (الجمعة: 3) وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر ایک چیز پاکیزہ ہو۔اس لئے اس نے رسول کو اپنی آیات دے کر بھیجا تا کہ وہ آیات لوگوں کو سنائے اور ان میں دماغی اور روحانی پاکیزگی پیدا کرے۔پہلے اللہ تعالیٰ کی آیات سکھا کر انسانی دماغ کو پاک کرے اور پھر یو سیھم ان کے اعمال کو پاک کرے“۔(فضائل القرآن (2) انوار العلوم جلد 11 صفحه 130 مطبوعه ربوه ) پھر آپ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ القدوس کے مقابل رسول کا کام یہ بتایا۔وَيُزَ كَيْهِمْ کہ دنیا کو پاک کرتا ہے۔عالم کی علامت کیا ہوتی ہے۔یہی کہ وہ دوسروں کو پڑھاتا ہے اور دوسرے لوگ اس کے ذریعہ عالم ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کا ثبوت یہ ہے کہ اُس کی طرف سے آنے والے دنیا کو پاک کرتے ہیں۔محمد رسول اللہ ﷺ گندے لوگوں کو لیتا ہے اور اس کے ہاتھ میں آ کر وہ پاک ہو جاتے ہیں۔(احمدیت کے اصول۔انوار العلوم جلد 13 صفحه 353 مطبوعه ربوه ) پس قدوس خدا کا یہ کامل نبی ہے جس کے ہاتھ میں آکر عام انسان بھی پاک ہو جاتے ہیں۔پس ہر ایک کو چاہئے کہ اگر پاک ہونا ہے اور اگر سچے مومن بننا ہے تو ان کے ہاتھ میں آنے کی کوشش کرے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ قرآن کریم کے جو اوامر ونواہی ہیں، جو کرنے کا حکم ہے اور نہ کرنے کی باتیں ہیں ان پر عمل کرنا ہوگا۔اگر ہم عمل