خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 135
خطبات مسرور جلد پنجم 135 14 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2007 ء (6 / شہادت 1386 ہجری شمسی مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج میں بعض احادیث کا صفت مالکیت کے لحاظ سے ذکر کروں گا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ کو یہ کہتے سنا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔امام نگران ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے ، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔خادم اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(بخارى كتاب الأسقراض و اداء الديوان۔باب العبد راع في مال سيده ولا يعمل الا باذنه۔حدیث نمبر (2409 اس حدیث میں چار لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ایک امام کو کہ وہ اپنی رعیت کا خیال رکھے۔ایک گھر کے سربراہ کو کہ وہ اپنے بیوی بچوں یا اگر اپنے خاندان کا سر براہ ہے تو اس کا خیال رکھے۔ایک عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے ان کا خیال رکھے۔ایک خادم جو اپنے مالک کے مال کا نگران ہے۔پھر آخر میں فرمایا کہ یہ سب لوگ جن کے سپر دیہ ذمہ داری کی گئی ہے، یہ سب یا درکھیں کہ جو مالک گل ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے جس نے یہ ذمہ داریاں تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم سے ان ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھے گا کہ مسیح طرح ادا کی گئی ہیں یا نہیں کی گئیں۔جس دن وہ مالک یوم الدین جزا اور سزا کے فیصلے کرے گا اس دن یہ سب لوگ جوابدہ ہوں گے۔اس لئے کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دل دہل جاتا ہے ہر اس شخص کا جو جز اسرا پر یقین رکھتا ہے۔پس سب سے پہلے فرمایا کہ امام پوچھا جائے گا اور یہ چیز تو ایسی ہے جس سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری سپرد کی ہے اس کی ادائیگی میں سستی نہ ہو جائے اور یہ ذمہ داری ایسی ہے کہ جو نہ کسی ہوشیاری سے ادا ہو سکتی ہے، نہ صرف علم سے ادا ہوسکتی ہے ، نہ صرف عقل سے ادا ہوسکتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو ایک قدم بھی نہیں چلا جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دعاؤں کے ذریعہ ہی جذب کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔پس سب سے پہلے تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ سے میری مدد کریں اور میں