خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 136
136 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ہر وقت آپ کے لئے دعا گو ہوں کیونکہ جماعت اور خلافت لازم وملزوم ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں اُس طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح وہ چاہتا ہے۔جب سب مل کر خلافت احمد یہ اور خلیفہ وقت کے لئے دعا کر رہے ہوں گے تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو کھینچنے والی ہوگی کیونکہ امام اور جماعت کی دعائیں ایک سمت میں چل رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگ رہی ہوں گی۔تو جب ایک سمت میں چل رہی ہوں گی تو دعائیں کرنے والوں کی سمتیں بھی ایک طرف چلتی رہیں گی۔ان کو بھی یہ خیال رہے گا کہ جب ہم دعا کر رہے ہیں تو ہمارے عمل بھی ایسے ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوں، اس سمت میں جا رہے ہوں جہاں خلیفہ وقت اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں جانا چاہئے یا خلیفہ وقت اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ہمیں لے جانا چاہتا ہے۔اگر اس احساس کے ساتھ دعا کر رہے ہوں گے تو اپنی اصلاح کی بھی ساتھ ساتھ توفیق ملتی رہے گی اور امام کے لئے نگرانی کا کام بھی آسان ہورہا ہو گا۔پس اس نکتہ کو ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں امام کی ذمہ داری ہے کہ انصاف قائم کرے اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق جماعت کی تربیت کی طرف توجہ دے، ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرے، ان کے لئے دعائیں کرے وہاں افراد جماعت کو بھی اس احساس کو اپنے اندر قائم کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں خلافت سے محبت ہے تو ہم بھی اپنی حالتوں کو دیکھیں اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے کی کوشش کریں جس پر خدا اور رسول کے حکموں کے مطابق ہماری زندگی چلنی چاہئے یا جس طرف ہمیں خلیفہ وقت چلانا چاہتا ہے۔دیکھیں جب ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیتے ہیں تو بعض اوقات بچوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتے ہیں اور ان کے اس احساس کو بیدار کرتے ہیں کہ تم ہماری عزت اور ہمارے خاندان کی عزت کی خاطر یہ یہ بُری باتیں چھوڑ دو اور نیک عمل کرو۔ایسی باتیں نہ کرو جس سے دوسروں کے سامنے ہماری سبکی ہو۔نگران کا ان کے ان جذبات کو ابھارنا بھی ان کی اصلاح کا ایک حصہ ہے، ایک کام ہے۔پس ہر فرد جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب ہوتا ہے یہ بات یادر کھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہو کر آپ کو بدنام نہیں کرنا۔اس بات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی اظہار فرمایا ہے۔مفہوم یہی ہے جو میں نے بیان کیا، الفاظ ذرا مختلف ہیں۔اسی طرح امام کی نگرانی کے ضمن میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ آجکل یا یوں کہنا چاہئے جماعت میں امام یا خلیفہ وقت کی نمائندگی میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں، عہدیداران متعین ہیں، ان کا بھی فرض ہے کہ حقیقی رنگ میں انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اگر کبھی کسی موقع پر اپنے پر یا اپنے عزیزوں پر بھی زد پڑتی ہو تو اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نمائندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں جو آپ کے سپرد کی گئی ہے تا کہ اس نگرانی میں خلیفہ وقت کی بھی احسن رنگ میں مدد کر سکیں ، تا کہ جزا سزا کے دن اس کو سرخرو کروانے والے بھی ہوں۔ہر عہدیدار کے عمل جہاں براہ راست اس کو