خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 124

124 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم آپ کے بارے میں حضرت عائشہ گواہی دیتی ہیں کہ آپ کے رات اور دن قرآن کریم کی عملی تصویر تھے۔(مسلم کتاب صلواة المسافرين باب جامع صلاة الليل حديث نمبر (1623 | پھر اللہ تعالیٰ بھی یہ گواہی دیتا ہے اور اعلان فرماتا ہے کہ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: (5) كه تو نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ تو اپنے عمل اور تعلیم میں انتہائی درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ آپ سے یہ اعلان کرواتا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163 )۔تو ان سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ان تمام ضمانتوں کے باوجود، ان تمام عملوں کے باوجود، اپنوں اور غیروں کی گواہی کے باوجود خوف ہے۔اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین نہیں ہے۔نہیں، بلکہ اس لئے کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک آپ کو تھا۔اللہ کی مالکیت اور پھر اس کے مَالِكِ يَوْمِ الدِّين ہونے کا صحیح فہم آپ گو تھا۔اس لئے آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا رحم ما نگتے تھے اور یہی آپ نے اپنے ماننے والوں کو تلقین فرمائی۔پس یہی اصل ہے کہ جو مَالِكِ يَوْمِ الدِین ہے اُس سے اُس کا فضل اور رحم ما نگ کر ہی انسان کی بچت ہے۔کسی کو کیا پتہ کہ کون ساعمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے اور کونسا نہیں اور کس نیت سے کوئی نیکی کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ہر انسان کے دل کا حال بظاہر دوسروں کو نیکی کرنے والا بھی نظر آتا ہو تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی نیت کیا تھی۔ان تمام باتوں اور وعدوں کے باوجود اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کا خوف دامنگیر تھا تو ایک عام مومن کو کس قدر اس کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ جہاں اس بات کا اظہار فرماتا ہے کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين جزا سزا میرے ہاتھ میں ہے۔گناہگار کو بھی بخش سکتا ہوں اور بخشتا ہوں۔وہاں مومنوں کو یہ تسکی بھی کرواتا ہے کہ جب زمین و آسمان کی ملکیت میری ہے اور ہر چیز پر میری دائمی قدرت ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔اس میں ذرہ برابر بھی نہ کبھی کمی واقع ہوئی اور نہ ہوگی۔تو میرے احکامات پر عمل کر کے خالص میرے لئے ہو کر ہر قسم کے حقوق ادا کرو تو میری پناہ میں رہو گے اور ہر شر سے بچائے جاؤ گے۔پس اس بات کو سمجھتے ہوئے میرے احکامات پر عمل کرو۔ورنہ یا درکھو اگر میرے مقابلے پر کسی اور کی پناہ تلاش کرنے کی کوشش کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔تمہیں کوئی مستقل پناہ نہیں دے سکتا۔اس دنیا کی عارضی منفعتیں تمہیں بعض دفعہ بہت نظر آتی ہیں لیکن پھر جزا سزا کے دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہو گی۔اور ایسے تمام لوگ جو کفر میں بڑھے ہوئے ہیں ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔لیکن ان کفر میں بڑھے ہوؤں کے لئے جب جزا سزا کا دن آئے گا تو بڑا کڑا اور دشوار گزار دن ہوگا۔پس اگر اللہ تعالیٰ کے اُس دن اللہ تعالیٰ کی رحمانیت سے فیض پانا ہے تو اس کے بتائے ہوئے رستوں پر چلو اور پھر بھی یہ خوف دامن گیر رہے کہ وہ