خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 125

125 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم قادر مطلق ہے ، ہماری کسی غلطی پر ہمیں پکڑ نہ لے اس لئے ہمیشہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس آسمان و زمین کے مالک سے رحمت اور بخشش کے طلبگار رہیں۔اس سے گناہوں اور غلطیوں کے باوجو د رحم اور بخشش کے امیدوارر ہیں۔اس لئے کہ وہ مالک اور بادشاہ ہے۔اس نے فرمایا ہے کہ میں عدل سے بالا ہو کر انعام و احسان کرتا ہوں۔اگر صرف عدل کا معاملہ ہو تو بہت سے لوگ پکڑ میں آ سکتے ہیں۔کہتے ہیں کسی پر قتل کا الزام لگایا گیا جب کہ وہ بے قصور تھا۔اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ انصاف کر اور مجھے اس سزا سے بچا، تو جانتا ہے کہ غلط الزام ہے۔باوجود اس کے کہ وہ نیک آدمی تھا ، دعا ئیں قبول ہوتی تھیں اس کی دعا قبول نہیں ہوئی اور اس کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔اس نے پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ تو تو سب سے زیادہ انصاف کرنے والوں سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے۔تجھے پتہ ہے کہ جس جرم میں یہ سزا سنائی گئی ہے وہ میں نے نہیں کیا۔تو اس پر اسے بتایا گیا کہ تو نے انصاف مانگا تھا تو انصاف یہی ہے جو تجھے مل گیا۔گو کہ تو آج ایک غلط الزام میں پکڑا گیا ہے یا سزا سنائی گئی ہے۔لیکن فلاں وقت تو نے ایک جانور کو یا کیٹرے کو ظالمانہ طریقے پر مارا تھا۔تو آج تجھ سے اس عمل کی پاداش میں یہ سلوک ہو رہا ہے۔پس یہ خوف کا مقام ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنے زعم میں بعض لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑے نیک اعمال کئے یا لوگ کسی کو نیک اعمال کرنے والا سمجھ رہے ہوتے ہیں ان سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اس لئے جزا سزا کے وقت کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا رحم اور فضل مانگنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کی آغوش میں آسکیں۔پس آنحضرت ﷺ نے اپنی سنت سے اپنی دعاؤں سے جو ہمیں یہ نکتہ سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت ہر وقت دل میں رکھو یہی یا در کھنے کے قابل چیز ہے۔حضرت عائشہ نے آپ کی ایک دعا کے بارے میں بیان کیا کہ آپ ہر نماز میں پڑھتے تھے۔کہ سُبحَنَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّهُمَّ اغْفِرْلِی کہ اے اللہ تو پاک ہے ، اے ہمارے رب اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ مجھے بخش دے۔(صحیح بخارى كتاب الأذان باب الدعا في الركوع حديث نمبر 794 پس بخشش ، رحم اور فضل مانگنے کی ضرورت ہے ، نہ کہ عدل اور انصاف۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندرونے کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔پس احکام پر عمل کر کے بھی حق کے طور پر نہیں بلکہ پھر فضل کے طور پر خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کیوں کہا اور عَادِلِ يَوْمِ الدِّين ( کیوں ) نہیں کہا تو واضح ہو کہ اس میں بھید یہ ہے کہ عدل کا تصور اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک حقوق تسلیم نہ کر لیا جائے اور جہانوں کے پروردگار خدا پر تو کسی کا کوئی حق نہیں اور آخرت کی نجات خدا تعالیٰ کی طرف سے