خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد پنجم 123 (13) خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2007ء ( 30 رامان 1386 ہجری شمسی مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : وَلِلهِ مُلكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللهُ عَلى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ (آل عمران: 190) اللہ تعالیٰ جو مالک کل ہے۔جو آسمان کا بھی مالک ہے اور زمین کا بھی مالک ہے۔کوئی چیز اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مالک اور الملك ہونے کی صفت کو قرآن کریم میں مختلف رنگ میں مختلف مضامین کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہ ہر مومن کا فرض بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ادراک حاصل کرے ، اسے ذہن میں رکھے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلے، اس کی عبادات کی طرف توجہ دے، اس کے احکامات پر عمل کرے، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرے۔وہ جو مَالِكِ يَوْمِ الدِّين ہے۔اُس سے اس دن سے ڈرے جس دن جزا سزا کا فیصلہ ہوگا۔کوئی بھی عقلمند انسان اس دن اپنے زعم میں یہ خیال کر کے کہ میں نے زندگی میں بڑے نیک اعمال کئے ہیں، میں تو لازماً جنت میں جانے والوں میں سے ہوں ، جنت میں جانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ایسے ہر شخص کو دنیا بے وقوف کہے گی۔یہ حدیث ہم کئی بارسن چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا۔صحابہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھ پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا تو میں جنت میں جاؤں گا۔“ (صحیح بخاری کتاب المرضى باب تمنى المريض الموت حدیث نمبر (5673 تو جب آپ جیسا انسان جس کے لئے یہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے ، آپ جو سب نبیوں سے افضل اور خاتم النبیین ہیں ، آپ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب: (57) اللہ تعالیٰ یقیناً اس نبی پر اپنی رحمت نازل کر رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔پس اے مومنو! تم بھی اس پر درود بھیجتے ہوئے دعائیں کرتے رہا کرو اور اس کے لئے سلامتی مانگتے رہا کرو۔آپ ﷺ جن کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنا تھا، جن کی را تیں خدا تعالیٰ کی عبادت میں کھڑے اس طرح گزرتی تھیں کہ پاؤں مبارک متورم ہو جایا کرتے تھے۔(صحيح بخارى كتاب التفسير باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك۔۔حدیث نمبر (4836