خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد پنجم 95 10 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2007ء بمطابق 9 رامان 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت مالک ہے جس کا سورۃ فاتحہ میں ذکر ہے اور کیونکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا ذکر چل رہا ہے اور سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی ناموں کی جو تر تیب رکھی ہوئی ہے، اسی حساب سے میں نے ذکر شروع کیا تھا، اس لئے آج اس ترتیب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کا بیان ہوگا۔ترتیب کے لحاظ سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے چوتھے نمبر پر فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو تم چہارم کی خوبی ہے جس کو فیضان اخص سے موسوم کر سکتے ہیں، مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين میں بیان فرمایا گیا ہے۔اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے۔اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔“ ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحه 250 ) یعنی رحیمیت سے دعا اور عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے، انسان دعا اور عبادت کرتا ہے ، اس سے مانگتا ہے اور مالکیت سے اس کا پھل ملتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ ترتیب انتہائی پر حکمت اور ہر ایک کو اپنی قدرت کے جلوے دکھاتی ہے، ہر اس شخص کو دکھاتی ہے جو اس پر کامل ایمان لانے والا ہے اور خالص ہو کر اس کا عبد بننے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی مزید وضاحت بھی فرمائی ہے۔لیکن اس سے پہلے جیسا کہ میں نے عموماً طریق رکھا ہوا ہے لغت کے لحاظ سے اور دوسرے مفسرین نے جو تفسیریں کی ہیں وہ بیان کرتا ہوں۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ المالك اسے کہتے ہیں جو عوام الناس میں اپنے احکام از قسم اوامر و نواہی اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہو۔یہ پہلو صرف انسانوں کی سیاست یعنی ان کے معاملات کی تدبیر کرنے اور ان پر حکومت کرنے سے مختص ہے۔اس بنا پر مَلِكُ النَّاس تو کہا جاتا ہے مگر مَلِكُ الْأَشْيَاء نہیں کہا جاتا۔پھر کہتے ہیں که قول خداوندی مَالِكِ يَوْمِ الدِین کا معنی ہے کہ وہ جزا سزا کے دن میں ملک ہوگا۔اس کی علماء کے نزدیک دو قرآتیں ہیں۔مَلِكِ يَوْمِ الدِّين بھی پڑھتے ہیں اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّين بھی۔لیکن زیادہ تر مَالِكِ يَوْمِ الدِّين