خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 96
96 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم ہی پڑھا جاتا ہے۔یہ معنی مندرجہ ذیل آیت کی بنا پر کیا گیا ہے کہ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن : 17) کہ آج کے دن بادشاہت کس کی ہے؟ اللہ ہی کی ہے جو واحد ،صاحب جبروت ہے۔پھر لسان العرب میں لکھا ہے۔اَلْمَلِكُ ، اللہ بادشاہ ہے۔مَلِكُ الْمُلُوكَ بادشاہوں کا بادشاہ، پھر لَهُ المُلْكُ ، بادشاہت اسی کی ہے اور هُوَ مَالِكُ يَوْمِ الدِّينِ وہ جزا سزا کے دن کا مالک ہے وَهُوَ مَلِيكُ الْخَلْقِ ، اس کے معنے لکھے ہیں رَبُّهُمْ وَمَالِكُهُم، وہ مخلوق کا رب اور مالک ہے۔لسان العرب کے معنی سامنے رکھتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے معنی یوں بیان فرمائے ہیں لیکن آپ نے اس میں مالک کے ساتھ یوم اور دین کے بھی علیحدہ علیحدہ معنی حل کر کے پھر مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے مفصل معنی لکھے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ اس کے معنی یہ بنیں گے کہ جزا سزا کے وقت کا مالک، شریعت کے وقت کا مالک، اور فیصلہ کرنے کے وقت کا مالک ، مذہب کے وقت کا مالک۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت مذہب یا شریعت کی بنیا د رکھی جاتی ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ صفت مالکیت کا اظہار فرماتا ہے۔اور کمزوری کے بعد اپنے پیارے کی جماعت کو صفت مالکیت کے تحت غلبہ عطا فرماتا ہے۔پھر نیکی کے زمانے کا مالک اور گناہ کے زمانے کا مالک، یعنی جب بدی اور گناہ بہت پھیل جاتا ہے تو زمانے کا مالک مصلح اور نبی مبعوث فرما کر دنیا کی اصلاح اپنی مالکیت کی صفت کے تحت کرتا ہے۔محاسبہ کے وقت کا مالک، اطاعت کے وقت کا مالک یعنی اطاعت کرنے والوں کے لئے خاص قانون قدرت ظاہر فرماتا ہے۔معجزات بھی رونما ہوتے ہیں۔خاص اور اہم حالتوں کا مالک یعنی اس کے حکم کے مطابق اعمال بجالانے والوں کے اجر اُن کو دیتا ہے جو آخر وقت تک وفا کے ساتھ اپنی حالتوں کو اس کے مطابق رکھیں ، اس کے احکام کے مطابق رکھیں ، وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد اول صفحه (24 اب بعض مفسرین جو پہلے گزرے ہیں ان کے حوالے پیش کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مالک کی جو تفسیر فرمائی ہے اور اس کو بھی آپ نے لسان العرب اور تاج العروس کے حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو، مکمل قبضہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لاسکتا ہو اور بلا اشتراک غیر ، یعنی بغیر کسی دوسرے کے اشتراک کئے اس پر حق رکھتا ہو۔اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا۔کیونکہ قبضہ نامہ پورا مکمل قبضہ تام، تصرف تام اور حقوق نامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں۔“ منن الرحمان روحانی خزائن جلد 9 صفحه 153 152 حاشیه )