خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 94

94 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم سخت مخالفت کی ہوا چلی اور مولویوں نے ان کے خلاف لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کرنا شروع کیا کہ قادیانیت کا یہ پودا، بُرائی کا پودا جو ہمارے گاؤں میں لگ گیا ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ دو نہیں تو یہ سارے گاؤں کو خراب کرے گا۔کچھ عرصہ پہلے ان کی تبلیغ سے ایک اور شخص نے بھی بیعت کی تھی۔اس کے بعد فضا میں اور زیادہ بڑی سخت مخالفت کی رو چل پڑی۔ایک طوفان بے تمیزی کھڑا ہو گیا تھا کہ اس گاؤں میں کفر کا پودا لگ گیا ہے اور یہ بڑھ رہا ہے اس کو ابھی سے کاٹو۔تو گزشتہ کل یا شاید پرسوں کسی وقت ایک بد بخت ہی کہنا چاہئے ( کہنا کیا چاہئے بلکہ ہے ہی )۔جو اس وقت پولیس میں حاضر سروس سب انسپکٹر ہے چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا، یہ بھی اور وہ احمدی بھی جو اُن کی تبلیغ سے نیا احمدی ہوا ہے ان کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے آتے ہی بندوق نکالی اور ان پر فائر کر دیا۔پیٹ میں گولی لگی شہید ہو گئے اور اس نے اس قدر ظالمانہ فعل کیا کہ ہاتھ میں اس کے ٹو کہ یا کلہاڑی تھی ، اس ٹو کے سے ان کی شہادت کے بعد ان کی گردن اور بازوؤں پر بھی وار کئے۔دوسرے احمدی جو تھے انہوں نے وہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور آ کے جماعت کو اطلاع دی۔ان کے بھائیوں وغیرہ نے بھی ان سے تقریباً بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ان کے بھائی کی بیٹی کی شادی تھی اور اس پر اسی وجہ سے ان کو نہیں بلایا ہوا تھا۔ان کی ایک بیوہ ہے اور تین بچیاں ہیں۔ان کی اپنی عمر شاید 46 سال تھی اور بڑی بیٹی کی عمر 10 سال ہے۔ان کے تمام بچوں نے فیملی نے بیعت کر لی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کا بھی حافظ و ناصر ہو۔ابھی تک تو جو ان کے بھائی ہیں انہوں نے ان کی بیوہ اور بچوں کو آنے نہیں دیا۔بہر حال یہ شرافت انہوں نے دکھائی کہ نعش جو ہے وہ جماعت کے سپر د کر دی اور آج ربوہ میں ان کی تدفین ہوگئی ہے۔یہ بڑے دلیر اور نڈر آدمی تھے اور دعوت الی اللہ بہت زیادہ کیا کرتے تھے۔اور مونگ کے شہداء کی تصویروں کو دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ کاش خدا مجھے بھی ان خوش نصیبوں میں، ان شہیدوں میں شامل کر لے۔تو یہ بات قرونِ اولیٰ کی یاد دلاتی ہے جب ایک موقع پر آنحضرت مال تقسیم فرمارہے تھے تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ حضور میں اس مال کے لئے تو مسلمان نہیں ہوا۔میری تو یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قربان ہوں اور میرے حلق پر تیر لگے۔جب وہ چلا گیا تو آنحضرت نے فرمایا اگر اس کی خواہش کچی ہے تو یہ پوری ہو جائے گی۔چنانچہ کچھ عرصہ بعد ایک جنگ میں وہ گئے اور عین حلق پر ان کے تیر لگا اور وہاں انہوں نے شہادت پائی۔تو اس کی بھی یقینا خواہش بچی تھی جو اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی۔اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے ، درجات بلند فرمائے انتہائی مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی بیوہ اور بچوں کا حافظ و ناصر ہو۔ان کے لئے دعا بھی کریں۔ابھی نمازوں کے بعد جمعہ اور عصر کی نمازوں کے بعد انشاء اللہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 23 تا 29 مارچ 2007ء ص 5 تا 8 )