خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد پنجم 53 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007ء حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میاں (یعنی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔(سیرت المهدى جلد اوّل روایت نمبر 178 صفحه 176 جدید ایڈیشن ) تو جہاں آپ نے اس چڑیا پر رحم فرمایا وہاں بچوں کو بھی نصیحت فرما دی کہ اگر اپنے ایمانوں کو قائم رکھنا ہے تو دل میں جذ بہ رحم بھی پیدا کرو۔پھر حضرت میاں بشیر احمد صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک خواجہ عبدالرحمن صاحب کشمیر کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ان کو خط میں لکھا کہ ایک دفعہ ایک بہت موٹا کہتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں گھس آیا۔اور ہم بچوں نے اسے دروازہ بند کر کے مارنا چاہا لیکن جب کتنے نے شور مچایا تو حضرت صاحب کو بھی پتہ لگ گیا اور آپ ہم پر ناراض ہوئے چنانچہ ہم نے دروازہ کھول کر کتے کو چھوڑ دیا۔(ماخوذ از سیرت المهدی جلد اوّل صفحه 313 روایت نمبر 342 جدید ایڈیشن) کسی جانور پر بھی ظلم برداشت نہیں کر سکتے تھے۔یہ ایک عجیب واقعہ ہے دیکھیں ایک غریب کے لئے جذبہ رحم اور ہمدردی کے تحت اللہ تعالیٰ کے حضور بخشش اور رحم کے لئے دعا کرنا۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی بیان کرتے ہیں کہ اٹھارہ میں برس کا ایک شخص نو جوان تھا۔وہ بیمار ہوا اور اس کو آپ کے حضور کسی گاؤں سے اس کے رشتہ دار لے آئے اور وہ قادیان میں آپ کی خدمت میں آیا چند روز بیمار رہ کر وفات پا گیا صرف اس کی ضعیفہ والدہ ساتھ تھیں۔حضرت اقدس نے حسب عادت شریفہ اس مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی۔بعض کو باعث لمبی لمبی دعاؤں کے نماز میں دیر لگنے کے چکر بھی آگیا اور بعض گھبرا اٹھے۔اتنی لمبی نماز جنازہ اس کی پڑھائی کہ جو پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ان کو چکر آنے لگ گئے۔بعد سلام کے فرمایا (سلام جب پھر گیا جنازہ جب ختم ہوا ) کہ وہ شخص جس کے جنازہ کی ہم نے اس وقت نماز پڑھی اس کے لئے ہم نے اتنی دعائیں کی ہیں اور ہم نے دعاؤں میں بس نہیں کی جب تک اس کو بہشت میں داخل کرا کے چلتا پھرتا نہ دیکھ لیا۔تو یہ شخص بخشا گیا اور اس کو فن کر دیا۔رات کو اس لڑکے کی والدہ جو بہت بوڑھی تھیں۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بہشت میں بڑے آرام سے ٹہل رہا ہے۔اور اس نے کہا کہ حضرت کی دعا سے مجھے بخش دیا اور مجھ پر رحم فرمایا اور جنت میراٹھ کا نہ کیا۔(ماخوذ از تذکرة المهدی از پیر سراج الحق صاحب نعمانی حصہ اوّل صفحه 80) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے اور حق کو پہچاننے اور ان کو عذاب سے بچانے کے لئے آپ کا جذبہ ہمدردی اور رحم بھی سب کچھ بڑھا ہوا تھا۔اس بارے میں یہاں ایک مثال سے واضح ہوتا ہے۔