خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد پنجم 54 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ بیت الدعا کے اوپر میرا حجرہ تھا۔اور میں اس کو بطرز بیت الدعا استعمال کیا کرتا تھا۔اس میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حالت دعا میں گریہ وزاری کو سنتا تھا۔اس کے ساتھ ہی حجرہ تھا۔کہتے ہیں کہ جب حضور وہاں دعا کیا کرتے تھے نماز پڑھا کرتے تھے تو میں حضور کی گریہ وزاری کو سنتا تھا۔آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا اور آپ اس طرح آستانہ الہی پر گریہ وزاری کرتے تھے جیسے کوئی عورت دردزہ سے بے قرار ہو۔وہ فرماتے تھے کہ میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق الہی کے لئے طاعون کے عذاب سے بچنے کے لئے دعا کرتے تھے۔(ان دنوں میں طاعون کے دن تھے ) مخلوق الہی کے لئے طاعون کے عذاب سے بچنے کے لئے دعا کرتے تھے کہ الہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو جائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔یہ خلاصہ اور مضمون حضرت مخدوم الملت کی روایت کا ہے۔اس سے پایا جاتا ہے کہ باوجود یکہ طاعون کا عذاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب اور انکار ہی کے باعث آیا۔مگر آپ مخلوق کی ہدایت اور ہمدردی کے لئے اس قدر حریص تھے کہ اس عذاب کے اٹھائے جانے کے لئے باوجود یکہ دشمنوں اور مخالفوں کی ایک جماعت موجود تھی رات کی سنسان اور تاریک گہرائیوں میں رو رو کر دعائیں کرتے تھے ایسے وقت جبکہ مخلوق اپنے آرام میں سوتی تھی یہ جاگتے تھے اور روتے تھے، القصہ آپ کی ہمدردی اور شفقت علی خلق اللہ اپنے رنگ میں بے نظیر تھی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 428-429) تو یہ ہے ہمدردی مخلوق اور اس کے لئے رحم کی حالت طاری کرنا۔اللہ تعالیٰ نشان دکھا رہا ہے تا کہ آپ کی سچائی کو ثابت کرے اور آپ فرما رہے ہیں کہ ان کو عذاب سے بچالے اور سچائی کی پہچان ان کے دلوں میں ڈال دے۔تو یہ ہے اپنے آقا کے نمونے پر عمل ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے زخمی کیا، تو پہاڑ کے فرشتوں نے جب کہا ہم پہاڑ گرادیں تو آپ نے فرمایا نہیں ، انہی میں سے عبادت گزار لوگ پیدا ہوں گے۔آپ نے ان کے لئے دعا بھی کی۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی روحانی حالت سدھارنے کے لئے کس قدر رحم اور ہمدردی کا جذبہ آپ میں تھا، اس کا اظہار آپ کے اس اقتباس سے بھی ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں ، نہ مفتری ہوں ، نہ دجال، نہ کذاب۔اس زمانہ میں کذاب اور دجال اور مفتری پہلے اس سے کچھ تھوڑے نہیں تھے تا خدا تعالیٰ صدی کے سر پر بھی بجائے ایک مجدد کے جو اس کی طرف سے مبعوث ہو ایک دجال کو قائم کر کے اور بھی فتنہ اور فساد ڈال دیتا۔مگر جو