خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 159

159 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم تسبیح سے مراد تو معروف تسبیح ہے جبکہ تقدیس سے مراد صلوۃ یعنی نماز ہے۔اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود اور دیگر کئی صحابہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ نُصَلِّي لَكَ یعنی اے خدا ہم تیری خاطر نماز پڑھتے ہیں۔پھر مجاہد نے وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ کا معنی کیا ہے کہ نُعَظِمُكَ وَ نُكَبِّرُكَ یعنی ہم تیری تعظیم کرتے ہیں، تیری بڑائی بیان کرتے ہیں۔پھر اسی طرح محمد بن اسحاق نے معنی کئے ہیں کہ اے اللہ ! ہم نہ تیری نافرمانی کرتے ہیں اور نہ کسی ایسے امر کے مرتکب ہوتے ہیں جو تجھے نا پسند ہو۔پھر تقدیس سے مراد التَّعْظِيم والتطهير ہے یعنی عظمت اور پاکیزگی بیان کرنا۔عظمت کا اور ہر عیب سے پاک ہونے کا اقرار کرنا۔اسی سے سبوح قدوس ہے۔سبوح کا معنی ہے اللہ کو ہر عیب سے منزہ قرار دینا اور قدوس سے مراد یہ اقرار کرنا ہے کہ تمام تر طہارت اور تعظیم اُسی کو زیبا ہے۔آگے وہ لکھتے ہیں کہ اس تمام بحث کی روشنی میں وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کا معنی ہوگا اے اللہ ! ہم تجھے ہر اس غلط بات سے پاک اور بری قرار دیتے ہیں جو اہل شرک تیری طرف منسوب کرتے ہیں اور وَنُقَدِّسُ لَک کا معنی ہے (اے اللہ ! ) ہر میل کچیل اور اہل کفر کی تیرے بارہ میں بیان کردہ غلط باتوں سے پاک ہونے کی جو صفات تجھ میں پائی جاتی ہیں ہم تجھے ان صفات سے منسوب کرتے ہیں۔میں نے ابھی ایک مفسر کی قدوس لفظ کی وضاحت میں حضرت خلیفہ مسیح الاول کا حوالہ دیا تھا۔پورا حوالہ اس طرح ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ بچی بات ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔ہر ایک ذرہ گواہی دیتا ہے کہ وہ خالق ہے اور اسی کی ربوبیت اور حیات اور قیومیت کے باعث ہر چیز کی حیات اور قائمی ہے یعنی ہر ایک کی زندگی ہے اور وہ قائم ہے۔اسی کی حفاظت سے محفوظ ہے۔پھر یہ بھی کہ وہ الله المَلِكُ ہے۔وہ مالک ہے۔اگر سزا دیتا ہے تو مالکانہ رنگ میں، اگر پکڑتا ہے تو جابرانہ نہیں بلکہ مالکانہ رنگ میں تا کہ ماخوذ شخص کی اصلاح ہو ، یعنی جس کو پکڑا گیا ہے وہ اس کی اصلاح کے لئے اُسے پکڑتا ہے۔پھر وہ کیسا ہے؟ القُدوس ہے۔اس کی صفات وحمد میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو نقصان کا موجب ہو۔بلکہ وہ صفات کا ملہ سے موصوف اور ہر نقص اور بدی سے منزہ ، القدوس ہے۔قرآن شریف پر تدبر نہ کرنے کی وجہ سے کہو یا اسماء الہی کی فلاسفی نہ سمجھنے کی وجہ سے۔یا تو قرآن کریم پر غور نہیں کرتے یا اللہ تعالیٰ کے نام کی فلاسفی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے۔غرض یہ ایک غلطی پیدا ہوگئی ہے کہ بعض وقت اللہ تعالیٰ کے کسی فعل یا صفت کے ایسے معنی کر لئے جاتے ہیں جو اس کی دوسری صفات کے خلاف ہوتے ہیں۔اس کے لئے میں تمہیں ایک گر بتاتا ہوں کہ قرآن شریف کے معنی کرنے میں ہمیشہ اس امر کا لحاظ رکھو کہ کبھی کوئی معنے ایسے نہ کئے جاویں جو صفات الہی کے خلاف ہوں۔اسماء الہی کو مدنظر رکھو اور ایسے معنی کرو اور دیکھو کہ قدوسیت کو بقہ تو نہیں لگتا۔صفات الہی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت بھی یہ دیکھو کہ قدوسیت کو بٹہ تو نہیں لگتا۔لغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں۔اور ایک نا پاک دل انسان کلام الہی کے گندے معنی بھی تجویز کر سکتا ہے ہے۔