خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 158

158 خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ایسی تمام صفات سے پاک قرار دیتے ہیں اور کوئی بھی قبیح بات تیری طرف منسوب نہیں کرتے۔اس معنی کے اعتبار سے نُقَدِّسُ لَكَ میں لام زائدہ ہے یعنی مضمون کی تاکید کرنے کے لئے ہے۔اور اگر اس لام کا ترجمہ بھی شامل کیا جائے تو پھر بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ ہم تیری خاطر نماز پڑھتے ہیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اے اللہ! ہم اپنے نفوس کو تیری خاطر یعنی تیری رضا حاصل کرنے کے لئے خطاؤں اور گناہوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔اسی طرح اس بارے میں علامہ فخر الدین رازی لکھتے ہیں وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لك (البقرة: (31) کہ بعض لوگوں نے یہ شبہ اٹھایا ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو خلق آدم کے وقت اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا (البقرة: 31) کہ کر اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا تھا۔علامہ فخر الدین رازی اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ شبہ دو وجہ سے باطل ہے ، غلط ہے۔نمبر ایک ، فرشتوں نے فساد اور خون خرابہ کو مخلوق کی طرف منسوب کیا ہے نہ کہ خالق اللہ تعالیٰ کی طرف۔اور دوسرے فرشتوں نے اپنے اس قول کے معا بعد کہا وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرة: 31) اور تسبیح کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو مادی اجسام والی ہر صفت سے منزہ قرار دینا، پاک قرار دینا اور نقد میں سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے افعال کو مذمت اور نادانی کی صفت سے منزہ قرار دینا۔اسی طرح علامہ رازی صفت القدوس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ القدوس اور القَدُّوس ( قاف کی زبر اور پیش دونوں کے ساتھ استعمال ہوا ہے ) یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، افعال و احکام اور اسماء کی پاکیزگی اور بے عیبی کو بیان کرنے کے اعتبار سے بڑا بلیغ ہے۔اس میں بڑی بلاغت ہے، بڑا وسیع لفظ ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی بے عیب ہے جیسا کہ لغت میں بھی دیکھا ہے۔اس کی صفات کو اگر پر کھنا ہے تو صفت قدوس ذہن میں رکھنی چاہئے۔صفت قدوس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کی اور وضاحت ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ فرمایا کہ قرآن کریم کے معنی کرتے ہوئے (اگر صحیح معنے کرنے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی صفات ضرور دیکھو۔لیکن ایک گر یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قدوسیت پر حرف نہ آئے۔کوئی بھی قرآن کریم کی تشریح کرنی ہے، صفت قدوسیت کو ہمیشہ سامنے رکھو۔یعنی ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے عیب ہے۔کوئی ایسی تشریح نہ ہو، کوئی ایسی تفسیر نہ ہو جس سے اللہ تعالیٰ کے بے عیب ہونے پر حرف آتا ہو۔اس کا ہر فعل اور ہر حکم اسی صفت کے تحت بے عیب اور پاک ہے۔تفسیر روح البیان میں وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کے تحت لکھا ہے، ہم قسم ہا قسم کی نعمتوں پر جن میں سے ایک نعمت اس عبادت کی توفیق ملنا بھی ہے، تیری حمد کرتے ہوئے تجھے ہر اس بات سے پاک قرار دیتے ہیں جو تیرے شایان شان نہیں۔اس اعتبار سے تسبیح صفات جلال کے اظہار کے لئے اور حمد صفات انعام کے اظہار کے لئے ہے۔وَنُقَدِّسُ لَكَ کے معنی لکھتے ہیں یعنی رفعت و عزت کا جو بھی معنی تیرے لائق شان ہے اسے ہم تیرے حق میں بیان کرتے ہیں اور جو تیرے لائق شان نہیں، اس سے تجھے منزہ قرار دیتے ہیں۔تفسیر ابن کثیر میں وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ کے تحت لکھتے ہیں کہ قتادہ کہتے ہیں کہ یہاں