خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 541 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 541

541 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آئیں۔اس مخالفت کی آگ کو ہوا دینے کے لئے ہر شریر گروہ کو پاکستانی ملاں ملا ہوا ہے، جس سے یہ ٹریننگ لیتے ہیں یا یہ ملاں خود وہاں چلا جاتا ہے اور فضا کو خراب کرتا ہے تا کہ احمدیوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی پیدا کی جائے اور جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ، ان کے زعم میں احمدیت کو ختم کرنے کی کوششیں ہیں۔لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس مخالفت کی وجہ سے جو احمدیت کے خلاف محاذ کھڑا کر کے یہ کرتے ہیں اس مخالفت نے ہمیشہ احمدیت کیلئے کھاد کا کام کیا ہے اور ہم پہلے سے بڑھ کر احمدیت کی ترقی کے نظارے وہاں دیکھتے ہیں۔اس لحاظ سے ہم مخالفین اور ملاں کے شکر گزار بھی ہیں کہ وہ ہمارے راستے صاف کرتے رہتے ہیں، جن لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف نہیں ہوتی وہ بھی احمدیت کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ دیکھیں یہ کیا چیز ہے جس کے خلاف ملاں اتنا بھرا بیٹھا ہے اور ایک صاف دل انسان جب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر احمدیت کو قریب سے دیکھتا ہے تو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا حسن اسے جماعت احمدیہ میں ہی نظر آتا ہے اور اُس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ایک خوشبو دار اور شیریں پھل کی طرح احمدیت کی آغوش میں گر پڑے۔پس ان ابتلاؤں سے احمدیوں کو گھبرانا نہیں چاہئے۔اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی وجہ سے مسیح محمدی کی قوت قدسیہ دیکھیں کہ دنیا کے ہر کونے میں احمدی اپنی جان ، مال اور وقت کی قربانی کیلئے ہر وقت تیار کھڑا ہے۔چاہے وہ ایشیا ہے یا امریکہ ہے یا افریقہ ہے، مشرق بعید ہے یا جزائر ہیں۔ہر جگہ احمدیت کی خاطر قربانی دینے والے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یہ نظارے ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس مخالفت کے بعد ہر جگہ پر جماعت احمدیہ نے ترقی کی ہے۔1974ء میں ان لوگوں نے پاکستان میں جماعت کے خلاف کیا کچھ کرنے کی کوششیں نہیں کیں لیکن کیا جماعت کی ترقی رک گئی ؟ پھر اس فرعون سے بھی بڑا فرعون آیا اُس نے کہا پہلا تو بے وقوف تھا، صحیح داؤ استعمال کر کے نہیں گیا۔کچھ کمیاں ، خامیاں ، سقم چھوڑ گیا ہے ، میں اس طرح انہیں پکڑوں گا کہ احمدیوں کے خلیفہ سمیت تمام جماعت تو بہ کرتے ہوئے میرے قدموں میں گر پڑے گی ، اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا۔تو کیا اس کی خواہش پوری ہو گئی ؟ خواہش پوری ہونے کا کیا سوال ہے، احمد یوں نے عشق رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں سرشار ہوتے ہوئے اس کلمہ کی حفاظت میں جس کو دشمن نے ہم سے چھینا چاہا تھا پاکستانی جیلوں کو بھر دیا مگر کلمہ اپنے سینے سے نہیں اتارا۔کیا اس نظارے نے غیروں کے دل نرم کرتے ہوئے غیروں کو احمدیت کی طرف مائل نہیں کیا ؟ کئی سعید فطرت مائل ہوئے اور کئی سعید روحیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں آگئیں۔اور ان فرعونوں کا کیا حال ہوا ؟ ایک فرعون کو اس کے اپنے ہی پروردہ نے پھانسی پر چڑھا دیا اور دوسرے کو اللہ تعالیٰ نے خدا کے بندے اور اس کی جماعت کی دعاؤں کو سنتے ہوئے ہوا میں اڑا دیا۔یہ ہے احمدیت کا خدا جس کا ادراک ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ kh5-030425