خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 542
542 خطبہ جمعہ 27 /اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم وسلم کے غلام صادق نے آج کروایا ہے، جس کے اس وعدے کو ہم نے ہر آن پورے ہوتے دیکھا ہے کہ میں اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہوں۔آج بھی وہی خدا جماعت احمدیہ کی حفاظت کے لئے کھڑا ہے۔آج بھی وہ اپنے بندے اور اپنے مسیح کی جماعت کی دعاؤں کو سنتا ہے۔آج بھی تم ایسے نظارے دیکھو گے کہ جو دشمن ان دعاؤں کی لپیٹ میں آئے گا اس کے ٹکڑے ہوا میں بھرتے چلے جائیں گے۔اگر حکومتیں کھڑی ہوں گی تو وہ بکھر جائیں گی ، اگر تنظیمیں کھڑی ہوں گی تو وہ پارہ پارہ ہو جائیں گی۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بعض دفعہ الہی جماعتوں کو امتحانوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ہر احمدی کا کام ہے کہ دعائیں کرتے ہوئے نہایت صبر و استقلال کے ساتھ ان امتحانوں سے گزر جائے۔آخری فتح ہماری ہے اور یقیناً ہماری ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس فتح کو روک نہیں سکتی۔یہ خدا کی باتیں ہیں جن کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے یہ پوری ہوں گی اور ضرور پوری ہوں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔اس لئے میں پاکستان کے احمدیوں کو کہتا ہوں کہ آجکل جو حالات ہیں ان میں دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔یہ جو مقدمے بن رہے ہیں ، حکومت کی طرف سے ہمارے تربیتی رسائل الفضل وغیرہ پر آئے دن جو پابندیاں لگائی جاتی ہیں، حکومت کا ایک اہلکار اٹھتا ہے اور انتظامیہ پر دہشت گردی کی دفعہ لگا دیتا ہے اور اُن دہشت گردوں کو جو حقیقت میں دہشت گرد ہیں جو بغیر کسی وجہ کے روزانہ درجنوں جانیں لے لیتے ہیں ، جو قانونی کارروائی کرنے والے کو شہید کر کے اس لئے بچ جاتے ہیں کہ مرنے والا احمدی تھا، جو کئی معصوم عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کر دیتے ہیں ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا تا کہ ان کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ تعلقات ہیں، یہ ان کے پروردہ ہیں۔لیکن الفضل اخبار یا جماعت کا کوئی رسالہ جو جماعت کی تربیت کیلئے نکالا جاتا ہے ان کے پرنٹر پر مینیجر پر ، پبلشر پر اس لئے مقدمہ کر دیا جاتا ہے کہ اس رسالے میں یہ کیوں لکھا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مسیح اور مہدی ہیں۔اگر یہ دہشت گردی ہے تو ہزار جان سے ہمیں یہ دہشت گردی منظور ہے۔ہندوستان میں جہاں جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے وہاں احمدیت کی مخالفت ہے ایک احمدی معلم کو شہید کر کے لاش کو اس لئے درخت کے ساتھ لٹکا دیا کہ اس نے کہا تھا کہ امام مہدی آ گیا ہے۔بنگلہ دیش میں مسجدوں پر حملے، پتھراؤ ، مار دھاڑ اور شہادتیں اس لئے ہو رہی ہیں کہ احمدی اعلان کرتے ہیں کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيْمَان ( آل عمران : 194 ) کہ اے ہمارے رب ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سنی جو ایمان کی طرف بلاتا تھا۔انڈونیشیا میں جماعتی عمارات پر پتھراؤ کیا جاتا ہے، مسجدوں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے، لوگوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، اس لئے کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے آنے والے مسیح اور مہدی کو کیوں مان لیا ہے اور ان لوگوں نے کیوں ان بدفطرت ملاؤں کا ساتھ نہیں دیا جو اندر kh5-030425