خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 540
540 خطبہ جمعہ 27 /اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کی اجازت نہیں ہے۔کیونکہ بعض مسلمان حکومتیں جو ان کو مدد دیتی ہیں پسند نہیں کرتیں اور یہ اپنی امداد کے متاثر ہونے کی وجہ سے جماعت کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن ان حکومتوں کو ، ان دنیا داروں کو جن کا کل دائرہ صرف دنیاوی اسباب کے اندر ہے یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دینا چاہے یہ لوگ جتنا چاہیں زور لگالیں اس کو ہدایت سے نہیں روک سکتے۔یہ خدا تعالیٰ کا اعلان ہے اور اگر ان میں ہمت ہے تو خدا سے لڑ کر دکھا ئیں۔جماعت کے افراد کو تنگ کرنا، مارکٹائی کرنا حتی کہ جان تک لینے سے بھی دریغ نہ کرنا ان کے خیال میں جماعت کو کمزور کر دے گا، لوگوں میں خوف پیدا کر دے گا۔ان عقل کے اندھوں کو جو مسلمان کہلانے کا دعوی کرتے ہیں اپنی تاریخ پڑھ کر اور اس تعلیم کو دیکھ کر جو خدا تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری، جو یہ بتاتی ہے کہ مومن ابتلاؤں اور امتحان سے گھبرایا نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے والے مرتے نہیں بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔ان لوگوں کو پھر بھی عقل نہیں آتی کہ مخالفت میں اندھے ہوئے ہوئے ہیں ان کی ہر مخالفت کے بعد اور ان کے ہر احمدی کو شہید کرنے کے بعد احمدیت کا قدم پہلے سے کہیں آگے چلا جاتا ہے۔ترقی کی رفتار اس جگہ پر پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔کیا اللہ تعال کا یہ سلوک احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا ثبوت ہے یا جھوٹے ہونے کا؟ لیکن جن کی آنکھوں پر پردہ پڑ جائے ، جن کے مقدر میں گمراہی لکھی گئی ہو ان کی آنکھوں پر پردے پڑے رہیں گے۔یہ نام نہاد علماء اور لیڈر جو اپنی دکان چمکانا چاہتے ہیں خود بھی گمراہی کے گڑھے میں گرنے والے ہیں اور قوم کو بھی اسی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس جو بھی مسلمان کہلانے والے ہیں ان کو خود ہوش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہر جان نے اپنا بوجھ آپ اٹھانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل دی ہے، جب اللہ تعالیٰ کے واضح ارشادات موجود ہوں، زمانے کے امام کے آنے کی تمام نشانیاں پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہوں تو تم ان علماء کے پیچھے چلنے کی بجائے عقل کے ناخن لیتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے اس کی مدد مانگتے ہوئے اللہ اور اُس کے رسول نے جو کہا تھا اور جودو اور دو چار کی طرح واضح ہے اس پر عمل کرو۔جو لوگ عقل رکھتے ہیں اور ان علماء کے پیچھے چلنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روزانہ ایسی بیعتیں آتی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعہ راہنمائی کی ہے یا انہوں نے کسی اتفاقی حادثے کی وجہ سے احمدیت کے حق میں کوئی نشان پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔پس جب تک دلوں کو صاف کر کے فکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے آگے نہیں جھکیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی پھر ایسے دلوں کو پاک نہیں کرتا۔پس احمدیت کی مخالفت میں زیادہ بڑھنے کی بجائے اپنی عاقبت کی فکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے۔ملاں اور معاشرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ جواب کام نہیں آئے گا کہ میں ملاں اور معاشرے کے ڈر کی وجہ سے احمدیت کو قبول نہیں کر سکا۔بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ آجکل بعض جگہ احمدیت کی مخالفت کی رو کچھ زیادہ ہے، اس میں تیزی آ رہی ہے اور ہو سکتا ہے کچھ اور kh5-030425