خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 27

خطبات مسرور جلد چهارم 27 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء آپ نے یہ رقم حقدار کے نام بذریعہ منی آرڈر بھجوا دی تا رسید بھی حاصل ہو جائے۔وہ شخص کپور حصلہ کا رہنے والا تھا۔اور عجب خان اس کا نام تھا۔منی آرڈر وصول ہونے کے بعد وہ اپنی مسجد میں گیا ( غیر از جماعت تھا) اور لوگوں سے کہا تم احمدیوں کو برا تو کہتے ہولیکن یہ نمونے بھی تو دکھاؤ۔40 سال کا واقعہ ہے اور خود مجھے بھی یاد نہیں کہ میری کوئی رقم منشی صاحب کے ذمے نکلتی ہے۔غرض منشی صاحب کا یہ عمل مصدق ہے جو حَاسِبُوْا قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوْا کا۔(اصحاب احمد۔جلد 4 صفحہ 22) حضرت حاجی غلام احمد صاحب آف کریام فرماتے ہیں کہ: ان ہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک احمدی اور ایک غیر احمدی نمبر دار ایک گاؤں کو جارہے تھے۔یہ پرانی بات ہے۔موسم بہار تھا۔چنے کے کھیت پکے تھے۔احمدی نے راستے میں ایک ٹہنی تو ڑ کر منہ میں چنا ڈالا۔پھر معایہ خیال آنے پر تھوک دیا اور تو بہ تو بہ پکارنے لگا کہ پرایا مال منہ میں کیوں ڈال لیا۔اس کے اس فعل سے نمبر دار مذکور پر بہت اثر ہوا۔وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ احمدی احمدیت سے پہلے ایک مشہور مقدمے باز، جھوٹی گواہیاں دینے والا، رشوت خور تھا۔بیعت کے بعد اس کے اندر اتنی جلدی تبدیلی دیکھ کر کہ وہ پابند نماز، قرآن کی تلاوت کرنے والا اور جھوٹ سے مجتنب رہنے والا بن گیا ہے، نمبر دار مذکور نے بیعت کر لی اور اس کے خاندان کے لوگ بھی احمدی ہو گئے۔(اصحاب احمد۔جلد 10 صفحہ (85) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وطن مالوف موضع را جیکی پہنچتے ہی خداوند کریم کی نوازش ازلی نے میرے اندر تبلیغ کا ایسا بے پناہ جوش بھر دیا کہ میں شب و روز دیوانہ وار اپنوں اور بیگانوں کی محفل میں جاتا اور سلام تسلیم کے بعد امام الزمان علیہ السلام کے آنے کی مبارکباد عرض کرتے ہوئے تبلیغ شروع کر دیتا۔جب گردو نواح کے دیہات میں میری تبلیغ اور احمدی ہونے کا چرچا ہوا تو اکثر لوگ جو ہمارے خاندان کو پشت ہا پشت سے ولیوں کا خاندان سمجھتے تھے مجھے اپنے خاندان کے لئے باعث ننگ خیال کرنے لگے۔اور میرے والد صاحب محترم اور میرے چچاؤں کی خدمت میں حاضر ہو کر میرے متعلق طعن و تشنیع شروع کر دی۔میرے خاندان کے لوگوں نے جب ان کی باتوں کو سنا اور میرے عقائد کو اپنے آبائی وجاہت اور دنیوی عزت کے منافی پایا تو مجھے خلوت و جلوت میں کوسنا شروع کر دیا۔آخر ہمارے ان بزرگوں اور دوسرے لوگوں کا یہ جذبہ تنافر یہاں تک پہنچا کہ ایک روز لوگ مولوی شیخ احمد ساکن دھر یکاں تحصیل پھالیہ اور بعض دیگر علماء کو ہمارے گاؤں میں لے آئے۔یہاں پہنچتے ہی ان علماء نے مجھے سینکڑوں آدمیوں کے مجمع میں بلایا اور احمدیت سے تو بہ کرنے کے لئے کہا۔kh5-030425