خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 26

26 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم تو میرے ساتھ وہ معاملات پیش آئے جو صداقت کے عاشقوں کو ہر زمانے و ہر ملک میں اٹھانے پڑتے ہیں۔مسجد میں وعظ کہنے سے روکا گیا۔ہر مسجد میں اشتہار کیا گیا کہ حسن علی سنت و جماعت سے خارج ہے کوئی اس کا وعظ نہ سنے۔پولیس میں اطلاع دی گئی کہ میں فساد پھیلانے والا ہوں۔وہ شخص جو چند ہی روز پہلے شمس الواعظین جناب مولانا مولوی حسن علی صاحب ، واعظ اسلام کہلا تا تھا۔صرف حسن علی لیکچرر کے نام سے پکارا جانے لگا۔پہلے واعظوں میں ایک ولی سمجھا جاتا تھا اب مجھ سے بڑھ کر شیطان دوسرا نہ تھا۔جدھر جا تا انگلیاں اٹھتیں۔سلام کرتا جواب نہ ملتا۔مجھ سے ملاقات کرنے کو لوگ خوف کرتے ہیں۔ایک خوفناک جانور بن گیا۔جب مدراس میں مسجد میں میرے ہاتھوں سے نکل گئیں تو ہندوؤں سے پیچھا ہال لے کر ایک دن انگریزی میں اور دوسرے دن اُردو میں حضرت اقدس امام زمان کے حال کو بیان کیا جس کا اثر لوگوں پر پڑا۔تائیدین صفحہ 78-79) تو یہ تھے قربانی کرنے اور تبلیغ کرنے کے طریقے۔اور یہ تھے وہ انقلاب جو حضرت مسیح موعود نے پیدا فرمائے۔پھر حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی کا ذکر ہے۔پینشن پانے کے بعد حضرت منشی صاحب نے اپنی ملازمت کا محاسبہ کیا اور یہ محسوس کیا کہ وہ سرکاری سٹیشنری میں غریب طلباء یا بعض احباب کو وقتا فوقتا کوئی کاغذ، قلم اور دوات یا پنسل دیتے رہے ہیں۔بات یہ تھی کہ محلے کے طلبا ء بچے یا دوست احباب منشی صاحب سے کوئی چیز مانگ لیتے اور لحاظ کے طور پر منشی صاحب دے دیتے تھے۔یہ ایک بہت ہی نا قابل ذکر شے ہوتی تھی اور کئی سالوں میں بھی پانچ سات روپے سے زیادہ قیمت نہ رکھتی ہوگی۔لیکن منشی صاحب نے محسوس کیا کہ انہیں ایسا کرنے کا دراصل حق نہیں تھا۔اعلیٰ ایمانداری کا تقاضا یہی تھا۔پس آپ نے کپورتھلہ کے وزیر اعظم کو لکھا کہ میں نے اس طریق پر بعض دفعہ سٹیشنری صرف کی ہے آپ صدر ریاست ہونے کی وجہ سے مجھے معاف کر دیں تا کہ میں خدا تعالیٰ کے روبرو جوابدہی سے بچ جاؤں۔ظاہر ہے کہ صدر ریاست نے اس سے در گزر کیا۔اصحاب احمد - جلد 4 صفحہ (22) تو یہ تھے اعلیٰ معیار تقویٰ کے جو پیدا ہوئے۔پھر منشی صاحب بوڑھے ہو گئے ان کو ہمیشہ سے، جوانی سے ہی روز نامچہ لکھنے کی عادت تھی۔جب بوڑھے ہو گئے تو آپ نے یہ دیکھنا چاہا کہ میرے ذمہ کسی کا قرضہ تو نہیں ہے۔روز نامچے کی پڑتال کرتے ہوئے کوئی 40 سال قبل کا ایک واقعہ درج تھا منشی صاحب نے ایک غیر احمدی سے مل کر ایک معمولی سی تجارت کی تھی اس کے نفع میں سے بروئے حساب 40 روپے کے قریب منشی صاحب کے ذمہ نکلتے تھے۔kh5-030425