خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد چهارم 28 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء میری عمر اگر چہ اس وقت اٹھارہ انیس سال کے قریب ہوگی مگر اس روحانی جرات کی وجہ سے جو محبوب ایزدی نے مجھے مرحمت فرمائی تھی میں نے ان مولویوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس بھرے مجمع میں جہاں ہمارے علاقے کے زمیندار اور نمبردار اور ذیلدار وغیرہ جمع تھے ان لوگوں کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل سنانے کی کوشش کی۔لیکن مولوی شیخ احمد اور ان کے ہمراہیوں نے میرے دلائل سننے کے بغیر ہی مجھے کا فر ٹھہرا دیا اور یہ کہتے ہوئے کہ اس لڑکے نے ایک ایسے خاندان کو بٹہ لگایا ہے جس میں پشت ہا پشت سے ولی پیدا ہوتے رہے ہیں اور جس کی بعض خواتین بھی صاحب کرامات و کشوف گزری ہیں تمام لوگوں کا میرے ساتھ مقاطعہ کرا دیا۔اس موقع پر میرے بڑے چا حافظ برخوردار صاحب کے لڑکے حافظ غلام حسین جو بڑے دبدبے کے آدمی تھے کھڑے ہوئے اور میری حمایت کرتے ہوئے مولویوں اور ذیلداروں کو خوب ڈانٹا۔لوگوں نے جب ان کی خاندانی عصبیت کو دیکھا تو خیال کیا کہ یہاں ضرور فساد ہو جائے گا اس لئے منتشر ہو کر ہمارے گاؤں سے چلے گئے۔اس فتویٰ تکفیر کے بعد مجھے لا إله إِلَّا الله کی خاص توحید کا وہ سبق جو ہزار ہا مجاہدات اور ریاضتوں سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا ان علماء کی آشوب کاری اور رشتہ داروں کی بے اعتنائی نے پڑھا دیا اور وہ خدا جو صدیوں سے ہما کی طرح لوگوں کے وہم و گمان میں تھا، سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے توسط سے اپنی یقینی تجلیات کے ساتھ مجھے ذرہ حقیر پر ظاہر ہوا۔چنانچہ اس ابتدائی زمانے میں جبکہ یہ علماء سوء گاؤں گاؤں میری کم علمی اور کفر کا چرچا کر رہے تھے مجھے میرے خدا نے الہام کے ذریعہ سے بشارت دی۔مولوی غلام رسول جوان ، صالح، کراماتی۔چنانچہ اس الہام الہی کے بعد جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑے بڑے مولویوں کے ساتھ مباحثات کرنے میں نمایاں فتح دی ہے وہاں میرے ذریعے سید نا حضرت امام الزمان علیہ السلام کی برکت سے انداری اور تبشیری کرامتوں کا اظہار بھی فرمایا ہے جن کا ایک زمانہ گواہ ہے۔حیات قدسی۔حصہ اوّل صفحہ 21-23) مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری کا ہی ذکر چل رہا تھا۔کہتے ہیں کہ پوچھو کہ مرزا صاحب سے مل کر کیا نفع ہوا۔اجی! بے نفع ہوئے، کیا میں دیوانہ ہو گیا تھا کہ ناحق بدنامی کا ٹوکر اسر پر اٹھا لیتا اور مالی حالت کو سخت پریشانی میں ڈالتا۔کیا کہوں کیا ہوا۔مردہ تھا زندہ ہو چلا ہوں، گناہوں کا اعلانیہ ذکر کرنا اچھا نہیں۔ایک چھوٹی سی بات سناتا ہوں۔اس نالائق کو 30 برس سے یہ قابل نفرت بات تھی کہ حقہ پیا کرتا تھا۔بارہا دوستوں نے سمجھایا خود بھی کئی بار قصد کیا لیکن روحانی قویٰ کمزور ہونے کی وجہ سے اس پرانی زبر دست kh5-030425