خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 324

خطبات مسرور جلد چهارم 324 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا لوگوں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہوگی۔سُبحان اللہ اس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا“۔(حقیقة الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 375-376) جب آپ کو یہ الہام ہوا تھا کہ آج تم عربی میں تقریر کر و۔تم کو قوت دی گئی ہے اور یہ کلام سلام يُفْصِحَتْ مِنْ لَدُنْ رَبِّ كَرِیم یعنی کلام میں فصاحت بخشی گئی ہے جیسا کہ میں نے بتایا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا اس کو سنتے ہی آپ نے اپنے بہت سے خدام کو اطلاع دی اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اول) کو بھی ہدایت فرمائی کہ وہ عید کے وقت قلم دوات اور کاغذ لے کر آئیں تا کہ خطبہ کولکھ سکیں۔تو اس خطبہ سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تھوڑ اسا مختصر سا اردو کا خطبہ بھی دیا پھر حضور نے عربی خطبہ شروع فرمایا۔اس کی رپورٹ یہ ہے کہ : يَا عِبَادَ اللہ سے فی البدیہہ عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا۔آپ نے ابھی چند فقرے کہے تھے کہ حاضرین پر جن کی تعداد کم و بیش 200 تھی وجد کی ایک کیفیت طاری ہو گئی۔محویت کا یہ عالم تھا کہ بیان سے باہر ہے۔خطبہ کی تاثیر کا وہ اعجازی رنگ پیدا ہو گیا کہ اگر چہ مجمع میں عربی دان معدودے چند تھے مگر سب سامعین ہمہ تن گوش تھے“۔غرض یہ ایک ایسا روح پرور نظارہ تھا کہ 1300 سال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک مجلس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ حالت تھی ( لکھنے والے کہتے ہیں ) کہ آپ کی شکل وصورت ، زبان اور لب و لہجہ سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ آسمانی شخص ایک دوسری دنیا کا انسان ہے جس کی زبان پر عرش کا خدا کلام کر رہا ہے۔خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز میں ایک تغیر محسوس ہوتا تھا۔ہر فقرہ کے آخر میں آپ کی آواز نہایت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی۔اس وقت آپ کی آنکھیں بند تھیں، چہرہ سرخ اور نہایت درجہ نورانی۔خطبہ کے دوران میں حضور نے خطبہ لکھنے والوں کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو اسی وقت پوچھ لیں۔ممکن ہے کہ بعد میں میں خود بھی نہ بتا kh5-030425