خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد چهارم 325 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء سکوں تو اس وجہ سے مولوی عبد الکریم صاحب اور ( حضرت خلیفہ اول) مولانا نورالدین صاحب کو جو خطبہ نویسی کے لئے مقرر تھے بعض دفعہ الفاظ پوچھنے پڑتے تھے۔پھر رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ خود حضرت اقدس علیہ السلام جو اس وقت آسمانی انوار و برکات کے مورد تھے۔آپ کے اندر اس وقت اتنی غیبی قوت کام کر رہی تھی کہ جیسا آپ نے بعد ازاں بتایا کہ آپ یہ امتیاز نہیں کر سکتے تھے کہ میں بول رہا ہوں یا میری زبان سے فرشتہ کلام کر رہا ہے۔کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس کلام میں میرا دخل نہیں۔خود بخود برجستہ فقرے آپ کی زبان پر جاری ہوتے تھے۔بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے ہی نظر آ جاتے تھے۔سامنے ایک کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔اور ہر ایک فقرہ ایک نشان تھا۔اس طرح جوں جوں آپ پر کلام اتر تا گیا آپ بولتے گئے۔یہ سلسلہ کافی وقت تک جاری رہا۔جب یہ کیفیت زائل ہوگئی تو حضور نے خطبہ ختم کر دیا اور آپ کرسی پر تشریف فرما ہو گئے اور پھر اس اعجازی خطبے کے بعد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے دوستوں کی درخواست پر خطبے کا ترجمہ سنانا شروع کیا۔اس کے لئے آپ کھڑے ہوئے تو لکھنے والے کہتے ہیں کہ زبان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں۔ہر ایک کا انداز مختلف ہوتا ہے۔اور فوری ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کرنا ایک نہایت مشکل ہے۔مگر روح القدس کی تائید سے آپ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب) نے اس فرض کو بھی خوبی سے ادا کیا اور ہر شخص عش عش کر اٹھا۔مولوی صاحب موصوف ابھی اردو ترجمہ سنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرط جوش کے ساتھ سجدہ شکر میں گر گئے۔آپ کے ساتھ حاضرین نے بھی سجدہ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سراٹھا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک۔یہ گویا قبولیت دعا کا نشان ہے۔( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه 85-83) پس یہ چند مثالیں ان نشانات کی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں دکھائے اور میں نے ابھی بیان کئے ہیں۔اور بھی بہت سارے ہیں لیکن وقت کی وجہ سے اتنے ہی بیان کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” اس بندہ حضرت عزت سے اسی کے فضل اور تائید سے اس قدرنشان ظاہر ہوئے ہیں کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں افراد امت میں سے کسی اور میں ان کی نظیر تلاش کرنا ایک طلب محال ہے۔تمام وہ لوگ جو اس امت میں قطب اور غوث اور ابدال کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔ان کی تمام زندگی میں ان کی نظیر ڈھونڈو پھر اگر نظیر مل سکے تو جو چاہو کہو۔اور نہ خدائے غیور اور قدیر سے ڈر کر بے باکی اور گستاخی سے باز آ جاؤ“۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 336) kh5-030425