خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد چهارم 59 خطبہ جمعہ 27 / جنوری 2006 ء بچ جاتے تھے اور نافرمان اور سرکش لوگ زمین کے پیٹ کی آگ کا ایندھن بن جاتے تھے“۔اثر چوہان۔روزنامہ نوائے وقت 16 ستمبر 1992 ء ص 4) پھر ایک لکھنے والے اثر چوہان صاحب ہیں، پھر ایک مجیب الرحمن شامی صاحب ہیں۔کالم لکھتے ہیں گو کہ ہمارے خلاف بھی لکھتے ہیں، بہر حال انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پورا ملک سیلاب کی لپیٹ میں ہے پانی ہے کہ بستیوں کو ویران کرتا چلا جا رہا ہے۔( یہ بھی 1992ء کا ہی ہے پرانا لکھا ہوا ہے لیکن اس سے ذرا صورت واضح ہوتی ہے ) آزاد کشمیر اور پنجاب میں قیامت کا سماں ہے۔ہزاروں دیہات ڈوب چکے ہیں۔لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ہزاروں مکانات کھنڈر بن گئے ہیں۔جانی نقصان بھی ہزاروں میں ہے ہلکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔یہ سب تباہی پانی کی پیدا کردہ ہے اس کا سبب پانی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اپنے فرائض سے سبکدوش نہیں ہوا۔اس نے ریٹائر منٹ نہیں لی۔اس نے آنکھیں بند نہیں کیں۔اسے اونگھ نہیں آتی۔بے خبری کی چادر اس نے نہیں اوڑھی۔اس نے تو صرف یہ کیا ہے کہ وقت کی چند مٹھیاں چند انسانوں کو دے ڈالی ہیں۔ان کو عمل کی مہلت دے دی ہے اور دیکھ رہا ہے کہ وہ اس مہلت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ایک باغی کے طور پر یا ایک فرمانبردار کے انداز میں۔ایک خلیفہ کے طریقے سے یا ایک مطلق العنان بادشاہ کے لہجے میں۔دیکھنے والا دیکھتا ہے، دیکھ رہا ہے کہ اس کے پانی ، اس کی ہواؤں، اس کی روشنی اور اس کی زمین کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔اللہ کی نعمتوں کو ذاتی جائیداد بنا کر جھگڑا کرنے والے اس کے پیغام کو اس کی ہدایت کو جھٹلاتے ہیں۔اس کی طرف بلانے والے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں (ذرا غور کریں ) اس کے راستے پر چلنے کو ناممکن اور محال بتاتے ہیں۔اس زمانے میں بلانے والا کون ہے اور اپنے آپ کو ان بے لگام خواہشات کو اپنا رب بناتے ہیں تو پھر آواز گونجتی ہے کہ انہوں نے ہمارے بندہ کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑ کا گیا آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہو چکا اب تو ان سے انتقام لے۔تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا۔اور یہ سارا پانی اس کام یعنی تباہی کو پورا کرنے کے لئے مل گیا ، جو مقدر ہو چکا تھا۔(یہ قرآن شریف کی سورۃ القمر کی آیت کا حوالہ ہے) کہتے ہیں کہ یہ پانی جو ہماری زمینوں پر مل رہا ہے، زمین کے اوپر رہنے والے لاکھوں افرادزمین کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، یہ کوئی پیغام دے رہا ہے، کچھ کہہ رہا ہے، کسی کی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔( روزنانہ جنگ 16 ستمبر 1992 ء صفحہ 4 لیکن ان کو خود احساس نہیں ہورہا۔تو یہ بھی ایک آسمانی آفت کی نشان دہی کر رہے ہیں۔اس کے kh5-030425