خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد چهارم 60 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء بارے میں بتا رہے ہیں ، بڑی اچھی بات کی جیسا کہ آیت انہوں نے لکھی ہے، کوٹ (quote) کی ہے۔تو اس زمانے میں ہمیں تو ایک شخص ہی ایسا نظر آتا ہے جس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہو گیا میری مدد کر اور اللہ تعالیٰ نے مدد کے وعدے کئے۔اور پھر دیکھیں خدا تعالیٰ کی قہری تجلی ، 1905 ء سے ظاہر ہونی شروع ہوئی ہے۔تو یہ کالم لکھنے والے بھی اور یہ کالم پڑھنے والے بھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نظر رکھیں جس کو انہوں نے Quote کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب مسلمان کہلانے والے ہیں۔اس بات کو جانتے ہیں علم رکھنے والے بھی ہیں، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ فَاعْتَبِرُوْا يَا اُولِى الابصار کہ پس اے سمجھ بوجھ رکھنے والو! عبرت حاصل کرو۔تو اللہ کرے کہ اس بات کو یہ لوگ سمجھنے والے بھی بن جائیں۔اس آنے والے نے تو دنیا کو سمجھایا اور آج بھی اس کی جماعت اللہ کے فضل سے دنیا میں پیغام پہنچا رہی ہے کہ ظالموں اور نا انصافیوں کو بند کرو، لہو و لعب میں پڑنے کی بجائے اپنے خدا کو پہچانو کیونکہ اللہ نے تو واضح فرما دیا ہے کہ فساد پھیلانے والے سرکش ہیں اور انہیں سزا ملتی ہے اور ملے گی۔پہلے بھی ملتی رہی ہے۔اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا بند کرو ورنہ پہلوں کا انجام بھی تمہارے سامنے ہے۔اپنے ماپ تول صحیح کرو، ایک دوسرے سے حیح سلوک کرو ، تعلقات کو ٹھیک کرو، دنیا کے امن کو برباد نہ کرو۔اگر تم اپنے پیدا کرنے والے کو نہیں پہچانو گے اور زمین میں ظلم اور فساد بند نہیں کرو گے تو پھر یہ آفات سامنے ہیں ، نظر آ رہی ہیں اور آتی رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو یونہی بستیاں تباہ نہیں کرتا۔یہ آیت جو میں نے پہلے پڑھی تھی اس میں تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے خود بھی اس بات کا بہت سارے مسلمان علماء ذکر کر چکے ہیں۔آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور تیرا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو از راہ ظلم ہلاک کر دے جبکہ ان کے رہنے والے اصلاح کر رہے ہوں۔پس خاص طور پر مسلمانوں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جس نبی کے ماننے کا دعوی ہے کیا اس کی تعلیم اور سنت پر عمل کر رہے ہیں؟۔یہ علماء بھی جو اخباروں میں قوم کو توجہ دلا رہے ہیں کہ یہ ظلم و فساد پیدا نہ کرو خود اپنے گریبان میں بھی جھانکیں۔کہیں ان کے قول و فعل میں تضاد تو نہیں۔بلکہ تضاد ہے، دنیا کو نظر آتا ہے اگر تضاد نہ ہوتا تو امام وقت کو ان کو ماننے کی توفیق ملتی۔اور ایسے ہی علماء جن کو ماننے کی توفیق نہیں مل رہی اور جو فساد پیدا کرتے ہیں ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانے آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قر آن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے ہی kh5-030425