خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 648
648 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم جائے۔اللہ کے فضل سے جرمنی میں ایسے لوگ ہیں جو اس معیار پر پہنچے ہوئے ہیں۔لیکن ابھی بھی بہت جگہوں پر بہت گنجائش ہے۔آپ کی جان، مال، وقت کی قربانی ہی ہے جس نے جرمنوں کے دل جیتنے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اس ملک میں اسلام کے بارے میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے بارے میں خبر پہنچنے کی وجہ سے توجہ پیدا ہو گئی تھی۔اگر دنیا کے حالات اور کچھ ہماری بستیوں کی وجہ نہ ہوتی تو یہاں بہت کام ہوسکتا تھا۔لیکن اب آپ نے اس کا مداوا کرنا ہے اور ہونا چاہئے۔یہاں میں ایک خط کا ذکر کرتا ہوں جو ایک جرمن عورت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کولکھا تھا۔یہ بدر قادیان 1907ء میں کسی رپورٹ میں درج ہے۔ایک عورت تھیں مسز کیرولین۔انہوں نے لکھا کہ میں کئی ماہ سے آپ کا پتہ تلاش کر رہی تھی تا کہ آپ کو خط لکھوں اور آخر کار مجھے ایک شخص ملا ہے جس نے مجھے آپ کا ایڈریس دیا ہے۔بلکہ ایڈریس جو دیا وہ بھی اس طرح ہے۔لفافے پر لکھا ہوا تھا، بمقام قلر دیان علاقہ کشمیر ملک ہند، تو تب بھی قادیان پہنچ گیا۔میں آپ سے معافی چاہتی ہوں کہ میں آپ کو خط بھتی ہوں کہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ خدا کے بزرگ رسول ہیں اور مسیح موعود کی قوت میں ہو کر آئے ہیں اور میں دل سے مسیح کو پیار کرتی ہوں۔مجھے ہند کے تمام معاملات کے ساتھ اور بالخصوص مذہبی امور کے ساتھ دلچپسی حاصل ہے۔میں ہند کے قحط بیماری اور زلازل کی خبروں کو افسوس کے ساتھ سنتی ہوں۔مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ مقدس رشیوں کا خوبصورت ملک اس قدر بت پرستی سے بھرا ہوا ہے۔ہمارے لارڈ اور نجات دہندہ مسیح کے واسطے جس قدر جوش آپ کے اندر ہے اس کے واسطے میں آپ کو مبارک باد کہتی ہوں اور مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر آپ اپنے اقوال چند سطور کے مجھے تحریر فرما دیں۔میں پیدائش سے جرمن ہوں اور میرا خاوند انگریز تھا۔اگر چہ آپ شاندار قدیمی ہندوستانی قوموں کے نور کے اصلی پوت ہیں۔تا ہم میرا خیال ہے کہ آپ انگریزی جانتے ہوں گے۔وہ بھتی ہیں کہ اگر ممکن ہو تو مجھے اپنا ایک فوٹو ارسال فرما ئیں۔کیا دنیا کے اس حصہ میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتی ہوں۔آپ یقین رکھیں پیارے مرزا کہ میں آپ کی مخلصانہ دوست ہوں۔کیرولین ( دستخط )۔تو یہ اس زمانے کی بات ہے جب رابطے اتنے آسان نہیں تھے جو آج کل ہیں۔یہاں کوئی احمدی نہیں تھا، پتہ نہیں انہوں نے کہاں سے ایڈریس لیا۔آج تو آپ یہاں ہزاروں میں ہیں۔تبلیغ بھی کرتے ہیں اور مسجد میں بھی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔گو کہ مادیت کی طرف دنیا آج پہلے سے زیادہ ہے، مذہب سے ہٹی ہوئی ہے۔لیکن ایک بے چینی بھی ساتھ ہی ہے۔اس لئے دنیا کی بے چینی دور کرنے کی کوشش کریں۔اِن لوگوں کو اسلام کی خوبیاں بتائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر جماعت کا اور اسلام کا تعارف کروانا چاہتے ہو تو جس علاقے میں کوشش کرنا چاہتے ہوں وہاں مسجد kh5-030425