خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 647 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 647

خطبات مسرور جلد چهارم کرنے والے اور تیری عبادت کرنے والے رہیں۔647 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء پھر اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی یہ بھی دعا ہمیں بتائی کہ اِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيْلَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (البقرة : 128 ) کہ اے ہمارے رب ہماری دعائیں قبول فرما، ہماری قربانیاں قبول فرما، تیری عبادت کی طرف توجہ رکھنے اور تیرے حکموں پر عمل کرنے کی ہماری جو کوشش ہے اپنے فضل سے اس کو قبول فرماتے ہوئے اس میں برکت ڈال دے۔اور اس سے پہلے جو آیت ہے اس میں ذکر یہ ہے کہ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدَ امِنًا (البقرة 127 ) پس آپ لوگ یہ اعلان کریں کہ ہماری مسجد میں اس گھر کی تنتبع میں ہیں، جہاں بھی بنتی ہیں، جہاں بھی بنیں گی ، جس علاقے میں جہاں بھی بن رہی ہیں یہ اس شہر میں جہاں پر تعمیر ہو رہی ہیں امن کا پیغام پہنچانے اور امن قائم کرنے اور پیار محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے والوں کی دعاؤں کے لئے بنیں گی۔اس لئے تم لوگ بے فکر رہو۔ہماری مسجد سے تم دیکھو گے کہ اللہ کے حضور جھکنے والوں کے چشمے پھوٹیں گے۔ہماری مسجدوں کے میناروں سے اللہ کی آخری اور کامل شریعت کی تعلیم کے نور کی کرنیں ہر سو پھیلیں گی۔پس ہم سے کسی قسم کا خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم تو دنیا کے خوفوں کو دور کرنے والے ہیں۔ہم تو دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی قربانیاں دینے والے لوگ ہیں۔ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنے حقوق چھوڑ کر دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔پس یہ پیغام یہاں کے ہر باشندے کو پہنچا ئیں اور اس کیلئے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کریں۔تو انہیں میں سے آپ دیکھیں گے کہ جو نیک فطرت لوگ ہیں آپ کے دفاع کیلئے نکلیں گے۔جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ تجربہ ہو چکا ہے اس ملک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی یہاں جرمنی میں بھی بعض علاقوں میں۔ہماری مسجدیں بنی ہیں تو پہلے وہی لوگ جو اعتراض کرتے تھے۔جن کو ہماری مساجد کا ان کے علاقوں میں تعمیر ہونے پر اعتراض تھا اب وہ خود بڑھ کر ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔پس اگر آپ لوگ نیک نیت ہو کر قربانیاں دیتے ہوئے مسجدیں بنانے کی کوشش کریں گے تو برلن میں ایک نہیں کئی مسجدیں بنانے والے انشاء اللہ بن جائیں گے۔پس شرط یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ قربانیاں دیتے چلے جائیں اور عاجزی سے دعائیں کرتے چلے جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان حقیر قربانیوں اور کوششوں کو قبول فرمائے۔یہ نہیں کہ وعدہ پورا کرنے کیلئے جماعت سے ہی قرض مانگنے لگ جائیں جیسا کہ میں نے مثال دی ہے۔دنیا میں بے شمار غریب جماعتیں ہیں جن کی مدد کرنی ہوتی ہے۔اگر آپ جو صاحب توفیق ہیں ان کو ہی رقم دے کر رقم بلاک کر دی جائے تو دنیا میں جو بے شمار مساجد بن رہی ہیں، جن کی مدد کرنی پڑتی ہے مشن ہاؤسز بن رہے ہیں، دوسرے تبلیغ کے منصوبے ہیں تو وہ پھر اس رقم کے بلاک ہونے کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکتے۔پس اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور قربانیاں کر کے جیسا کہ میں نے کہا عاجزی سے اللہ کے حضور التجا کریں۔کہ اے اللہ ہماری قربانیاں قبول فرما اور اس سے زیادہ کی بھی توفیق دے۔مالی قربانی نام ہی اس بات کا ہے کہ اپنے پر نگی وارد کر کے اللہ کی راہ میں خرچ کیا kh5-030425