خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 600
خطبات مسرور جلد چهارم 600 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء ہیں اور ایسے لوگوں کی دعا قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انہیں جنت کی نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔پس سچائی کو قائم رکھنے اور بچوں میں شمار ہونے کے لئے ضروری ہے کہ صحیح تعلیم اور حکمت پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہیں۔انبیاء کا دائرہ وسیع ہوتا ہے وہ اس دائرے میں اپنے رب سے مانگتے ہیں اور ہر مومن کا دائرہ ہر ایک کی اپنی استطاعت کے مطابق ہوتا ہے، اُن صلاحیتوں کے مطابق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عطا کی ہیں۔لیکن سچائی کا بنیادی سبب ہمیشہ ہر ایک کو پیش نظر رہنا چاہئے تا کہ زندگی میں بھی اور بعد میں بھی بچوں میں ہی ذکر ہو اور ان کا بچوں میں ہی شمار ہو۔پس اس پہلو سے بھی ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو، کوئی ایسا کلمہ نہ نکلے جو سچائی کے خلاف ہو۔اس کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ اپنے رب کے احسانوں کا شکر ادا کر سکے اور اس کے انعاموں کا وارث بن سکے۔ملازمت کرنے والا ہے یا کوئی بھی کام کرنے والا ہے تو محنت اور ایمانداری سے کام کرے، لوگوں سے معاملات ہیں تو ان کے حقوق کا خیال رکھے۔جماعتی ذمہ داریاں ہیں، چاہے اعزازی خدمت کی صورت میں ہے یا وقف زندگی کارکن کی صورت میں ہے ان میں کبھی کسی قسم کی شستی یا سچائی سے ہٹی ہوئی بات سامنے نہ لائے۔ہر ایک شام کو اپنا جائزہ لے تاکہ پتہ لگے کہ کس حد تک صدق پر قائم ہے، ضمیر گواہی دے کہ ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا اور راتیں بھی اس بات کی گواہی دیں کہ تقویٰ سے رات بسر کی۔اگر دن اور رات میں ہماری سچائی اور تقویٰ کے معیار رہے تو کامیابی ہے لیکن اگر معیار گر رہے ہیں تو اس دعا کے حوالے سے کہ ہم نے آنے والے منادی کو سنا، منادی کو مانا یہ بات غلط ہو جائے گی ، یہ جھوٹ ہے، اپنے نفس سے بھی دھوکہ ہے اور خدا تعالیٰ جو ہمارا رب ہے اس سے بھی دھوکہ ہے۔پس رَبَّنَا کی صدا تب قبولیت کا درجہ رھتی ہے جب سچے دل کے ساتھ تمام احکامات اور عہد بیعت پر قائم رہنے کی کوشش ہو۔انسان کمزور ہے، غلطیاں کرتا ہے لیکن ان کو دُور کرنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالٰی سے مدد مانگنا بھی ضروری ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا ( شاید گزشتہ خطبے میں یا اس سے پہلے ) کہ ہمارا رب اتنا مہربان ہے کہ اُس نے ہمیں بخشنے کے لئے ہمیں استغفار کے طریقے بھی سکھائے ہیں تا کہ ہم خالص ہو کر اس کے حضور جھکیں۔اور اس کے حضور خالص ہو کر کی گئی استغفار کو اللہ تعالیٰ قبولیت کا درجہ دیتا ہے اور اسے قبول فرماتا ہے۔فرماتا ہے قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَلَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْم (القصص : 17) اس نے کہا اے میرے رب یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، پس مجھے بخش ، تو اس نے اسے بخش دیا یقیناً وہی ہے جو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو یہ جو دُعا یہاں بیان کی گئی ہے یہ قصہ کہانی کے طور پر نہیں لکھی گئی۔بلکہ اس لئے بتائی ہے کہ اگر تم خالص ہو کر اپنے رب سے مانگو تو وہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔پس جب دل سے دعا نکلے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔kh5-030425