خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 599
خطبات مسرور جلد چهارم 599 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء کو ذہنی مریض کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ایسے رشتوں اور ایسے لڑکوں پر تو رشتہ ناطہ کو توجہ ہی نہیں دینی چاہئے تھی پتہ نہیں کیوں وہ تجویز کرتے رہے)، کیونکہ اگر ایسے لوگوں سے ہی واسطہ رہا تو رشتے ناطے کا عملہ بھی کہیں ذہنی مریض نہ بن جائے۔افسوس ہے کہ خیر کا مطالبہ تو ہوتا ہے لیکن ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔لیکن عملی صورت بعض جگہ اس طرح نظر آ جاتی ہے کہ شادی کے وقت تو کچھ نہیں کہتے اور کوئی شرط نہیں لگاتے لیکن شادی کے بعد عملی رویہ یہی ہو جاتا ہے، بعضوں کی شکایات آتی ہیں۔لڑکی والوں سے غلط قسم کے مطالبے کر رہے ہوتے ہیں۔اگر مرضی کا جواب نہ ملے اور مطالبات پورے نہ ہوں تو پھر لڑائی جھگڑے اور فساد اور لڑکیوں کو طعنے وغیرہ ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھی عقل دے اور رحم کرے۔پس ایک بے وقوف اور ظالم کے علاوہ جس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہوتا ہے، کیونکہ انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ پر ظلم تو کوئی نہیں کر سکتا ) ایسا شخص کوئی ایسی بات کرتا ہے تو اپنی جان پر ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ایسے شخص کے علاوہ جس کو اپنے رب کی صفت ربوبیت کا کوئی فہم و ادراک نہیں ہے جس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ہمارے رب نے ہم پر کیا کیا احسان کئے ہوئے ہیں اور ہم پر احسان کرتے ہوئے جو احکامات دیئے ہیں ان پر عمل کر کے ہم ان دعاؤں سے فیض پاسکتے ہیں جو ہمارے رب نے ہمیں سکھائی ہیں، اس کے بغیر نہیں۔تو ایک دعا جو سورۃ الشعراء کی تین آیات ہیں اس میں یہ سکھائی ہے کہ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا والْحِقْنِي بِالصَّلِحِيْنَ وَاجْعَلْ لِى لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِيْنِ وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ (الشعراء: 84 تا 86) کہ اے میرے رب مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر اور میرے لئے بعد میں آنے والے لوگوں میں سچ کہنے والی زبان مقدر کر دے اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔پس ایسے لوگ جو اپنے رب کی پہچان نہیں رکھتے اور عقل سے عاری ہیں ان کی باتیں سن کر یہی دعا ہے جو ہمارے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کی تھی۔پس ہمیں ہمیشہ اپنے رب سے عقل کی اور حکمت کی اور صحیح باتوں کو اختیار کرنے کی اور ان پر قائم رہنے کی دعامانگنی چاہئے اور پھر اس کے ساتھ اعمال صالحہ بجالانے کی طرف توجہ رہنی چاہئے جس کی اللہ تعالیٰ نے بارہا ہمیں تلقین فرمائی ہے، بارہا ہمیں توجہ دلائی ہے اور بار بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے علاوہ نیک لوگوں میں شامل ہونے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے، ان لوگوں میں شامل ہونے کا جو سچائی پر ہمیشہ قائم رہے، جنہوں نے سچ بات کہی ، شرک اور جھوٹ کے خلاف جہاد کر کے حقوق اللہ بھی قائم کئے اور حقوق العباد بھی قائم کئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے نیکیاں پھیلانے والے اور سچ کہنے والے بنے ، جن کو ہمیشہ اُن کی نیکیوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور پیچھے رہنے والے لوگوں میں بھی ان کی نیکیوں کی وجہ سے ان لوگوں کے تذکرے ہوتے kh5-030425