خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد چهارم 601 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء اللہ تعالیٰ ہر احمدی سے ایسا سلوک فرمائے اور ہر احمدی اپنے رب کی مغفرت کی چادر میں لپیٹنے کے بعد ہمیشہ اس حکم کا مصداق بن جائے اور اس پر عمل کرنے والا ہو کہ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السجدِينَ ( الحجر : 99) یعنی اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا۔پس یا درکھیں جب اس زمانے کے پکارنے والے اور مسیح و مہدی کی آواز کو سنا ہے تو تمام دوسرے رتوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے صرف اور صرف رت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جورب العالمین ہے کے سامنے جھکنا ہوگا اور اس کی تسبیح کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنی ہوں گی۔ہمیں وہ سجدہ کرنا ہو گا جس کی اس زمانے کے امام نے ہمیں پہچان کروائی ہے۔وہ سجدہ جو صرف اور صرف رب العالمین کے در پر کیا جاتا ہے کیونکہ وہی ایک رب ہے اور اس کے علاوہ کوئی رب نہیں جو کسی مومن کے دل میں بستا ہو یا کسی احمدی کے دل میں بس سکتا ہو۔پس ایک احمدی کی توجہ ہر وقت اُس رب کے آگے جھکے رہنے کی طرف ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ : دیکھو دراصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ ربَّنَا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور رتوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔رب کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہیں۔بہت سے رب بنائے ہوئے ہیں۔یہ رب کی جمع ہے۔اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہوتے ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال یا دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہوکر اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پُر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانہ پر نہ گرے، تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دل سوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ ربَّنَا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں، تیرے آستانہ پر آتا ہوں۔غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے جب تک انسان کے دل سے دوسرے رب اور ان کی قدر و منزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں kh5-030425