خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد چهارم 46 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء بختیار کاکی کے مزار پر جب گئے ہیں تو ملفوظات میں اس طرح واقعہ درج ہے کہ آج حضرت بختیار کا کی کے مزار پر حضور علیہ السلام نے دعا کی اور دعا کولمبا کیا۔واپس آتے ہوئے حضرت نے راستہ میں فرمایا کہ بعض مقامات نزول برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اللہ تھے اس واسطے ان کے مزار پر ہم گئے۔ان کے واسطے بھی ہم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔اور دیگر بہت دعائیں کیں لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہو گئے اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا ( یعنی یہ سوچتے ہوئے آ رہے تھے تو گاڑی میں بیٹھے ہوئے یہ الہام ہوا کہ : ” دست تو ، دعائے تو ، تر تم ز خدا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 528-529 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) کہ تیرا ہاتھ ہے، اور تیری دعا اور خدا کی طرف سے رحم۔تو اللہ کرے کہ دہلی والوں کے بھی اور دنیا کی دوسری آبادیوں کے بھی دل نرم ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں قبول ہوں اور دنیا کو آپ کو ماننے کی توفیق ملے۔پھر اسی قسم کے سفر کا ذکر ہے، ملفوظات کا ہی ایک اور حوالہ ہے، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج کہاں کہاں کی سیر کی ؟ انہوں نے عرض کی فیروز شاہ کی لاٹ، پرانا کوٹ ، مہابت خان کی مسجد ، لال قلعہ وغیرہ مقامات دیکھے۔فرمایا ہم تو بختیار کا کی ، نظام الدین صاحب اولیاء ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ اصحاب کی قبروں پر جانا چاہتے ہیں (یہ اس سے پہلے بتایا ، بعد میں تو آپ ہو آئے تھے ) دہلی کے یہ لوگ جو سطح زمین کے اوپر ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں ، اور نہ ملاقات کے قابل ہیں اس لئے جو اہل دل لوگ اِن میں سے گزر چکے ہیں اور زمین کے اندر مدفون ہیں، ان سے ہی ہم ملاقات کر لیں تا کہ بدوں ملاقات واپس نہ جائیں۔میں ان بزرگوں کی یہ کرامت سمجھتا ہوں کہ انہوں نے قسی القلب لوگوں کے درمیان بسر کی۔اس شہر میں ہمارے حصہ میں ابھی وہ قبولیت نہیں آئی جو ان لوگوں کو نصیب ہوئی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 499 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ دہلی میں بعض تاریخی جگہیں بھی دیکھنے کا موقع ملا جہاں مسلمان بادشاہوں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم ہیں، ان میں دہلی کا لال قلعہ بھی ہے اور تغلق آباد کا قلعہ بھی ہے تغلق آباد کا قلعہ وہ جگہ ہے جس کے ایک اونچے مقام پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر ( جب ایک دفعہ سیر پہ وہاں گئے تھے تو اس مقام پر کھڑے ہو کر ) دہلی کا نظارہ کر رہے تھے تو اس دوران اس نظارے میں اتنے محو ہو گئے کہ آپ ایک اور عالم میں چلے گئے۔کسی اور دنیا میں چلے گئے۔پھر آپ kh5-030425