خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 47
47 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم کی ایک بیٹی کے کہنے پر آپ کی وہاں سے واپس روانگی ہوئی اور اپنے خیالات سے واپس آئے۔تو اس وقت آپ کی زبان سے نکلا تھا کہ میں نے پا لیا، میں نے پا لیا۔تو اس کی تفصیل کہ کیا پالیا ؟ اور ان قلعوں اور کھنڈروں اور ویرانوں کی روحانی دنیا سے مثالیں دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو تقریباً 20 سال کے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔جلسہ پر کچھ سال لگا تار اور پھر پیچ میں کچھ وقفہ دے کر جلسوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے۔ان تقاریر میں آپ نے ہمیں روحانی دنیا کی سیر کروائی ہے۔اور پھر ہماری ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔یہ مجموعہ تقاریر سیر روحانی کے نام سے اب تو ایک جلد میں شائع ہو چکا ہے۔ہر پڑھے لکھے احمدی کو جو اردو پڑھ سکتا ہے اس کو پڑھنا چاہئے۔جو پڑھ نہیں سکتے ہن سکتے ہیں سنیں۔اس میں دنیاوی بادشاہوں کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے اس میں عبرت کے سبق بھی ہیں۔اس کو پڑھ کر خوف بھی آتا ہے اور ساتھ ہی عالم روحانیت کی سیر کر کے اس بات کی خوشی بھی ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی جو تو فیق عطا فرمائی ہے اس سے ہم فیض پاتے رہیں گے اور اس سے دائی بادشاہت حاصل کرنے والوں میں شامل بھی ہوں گے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ یہ تب ہوگا جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے والے ہوں گے ، آپ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔بہر حال پھر دہلی کا یہ سفر ختم ہوا تو آگے ہم قادیان کی طرف ٹرین پر روانہ ہوئے ، قادیان پہنچے ، آپ سب نے رپورٹس پڑھ لی ہوں گی ، ایم ٹی اے پر بھی اہل قادیان کے استقبال کے نظارے دیکھ لئے ہوں گے۔اس بستی میں پہنچ کر ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔مینارہ اسیح دُور سے ہی ایک عجیب شان سے کھڑا نظر آتا ہے۔بہشتی مقبرہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا مزار ہے، دعا کر کے عجیب سکون ملتا ہے۔سب جانے والے تجربہ رکھتے ہیں۔الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔قادیان میں تقریباً ایک ماہ قیام رہا۔لیکن پتہ نہیں چلا کہ ایک ماہ کس طرح گزر گیا۔میں تو پوری تفصیل سے قادیان پھر بھی نہیں سکا حالانکہ چھوٹی سی جگہ ہے۔اس خطبے میں جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ عموماً لوگ امید رکھتے ہیں کہ سفر کے حالات و واقعات سنائے جائیں لیکن قادیان کے سفر کے حالات تو ایک حالِ دل کی کہانی ہے جو سنائی نہیں جا سکتی۔بہر حال مختصر یہ کہ اب تک میں نے جو دورے کئے ہیں، سفر کئے ہیں، ان میں پہلا سفر ہے جس کی یادا بھی تک بے چین کرتی ہے اور باقی ہے۔عجیب نشہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی کا۔اس سے زیادہ کہنا کچھ مشکل ہے۔۔kh5-030425