خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد چهارم 45 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء کا بھی موقع مل گیا۔آگرہ میں تاج محل اور دہلی کے کچھ تاریخی مقامات ، مینار، قلعے جو چند ایک محفوظ ہیں، کچھ تو کھنڈر بھی بن چکے ہیں ، دیکھنے کا موقع ملا۔ہم جب قطب مینار دیکھنے کے لئے گئے تو وہ دیکھنے کے بعد انتظامیہ کا خیال تھا کہ یہاں سے واپس گھر ہی جانا ہے۔لیکن میرے دل میں یہ تھا کہ حضرت بختیار کا کئی کے مزار پر بھی جانا ہے۔میرے یہ کہنے پر انتظامیہ والے ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگ گئے۔انتظامیہ کا خیال تھا کہ سیکیورٹی کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ چھوٹی چھوٹی گلیاں مزار پہ جانے کے لئے ہیں اور اردگرد کا نیں ہیں اور آبادی بہت زیادہ ہے۔پھر مزار سے کم و بیش سو گز پہلے ان کا طریقہ ہے کہ جوتے بھی اتروا دیتے ہیں۔تو بہر حال میں نے کہا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہاں چلتے ہیں۔خیر گلیوں میں سے گزر کر ہم وہاں پہنچے۔جوتے اتروائے کچھ گھر کی خواتین بھی ہمارے ساتھ تھیں لیکن ایک جگہ آ کے انہوں نے عورتوں کو روک دیا کہ اس سے آگے عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں۔جب ہم نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے تو کہا کہ بزرگ یہی ہمیں کہتے آئے ہیں کہ اس سے آگے عورتیں نہیں جاسکتیں۔بہر حال کہاں سے روایت چلی؟ کیوں نہیں جاسکتی ہیں؟ یہ پتہ نہیں۔مرد بہر حال آگے مزار تک چلے گئے وہاں جا کے کچھ لوگ دعا کر رہے تھے دوسرے بھی پہلے وہاں دعا میں لگے ہوئے تھے۔جالی کے ساتھ میں نے دیکھا کچھ عورتوں کو جو مسلمان نظر نہیں آ رہی تھیں اور اس طرح قبر پہ دعا کرنے والوں کو دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ بجائے ان بزرگ کے لئے دعا مانگنے اور اپنے لئے دعا مانگنے کے یہ تو اس بزرگ سے مانگ رہے ہیں، یہاں تو شرک چل رہا ہے۔تو بہر حال وہاں دیکھ کر یہی دعا کی، یہی خیال آیا کہ اے اللہ جو شخص تیرا عبد بنا، تیرا بندہ بننے کی کوشش کرتا رہا، اسے یہ لوگ شرک کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ان مسلمانوں کو عقل اور سمجھ دے تاکہ تیری پہچان کر سکیں۔بہت سے اور نظارے بھی سامنے آ گئے کہ کس طرح لوگوں نے ان جگہوں پر جا کر شرک پھیلایا ہوا ہے اور مسلمان کہلاتے ہیں، حالانکہ یہ سب بزرگ تو حید پر قائم تھے اور تو حید کو پھیلانے کی کوشش کرتے رہے۔وہاں سے واپسی پر میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 1905ء میں یہاں آئے تھے باوجود اس کے کہ شاید کسی نے ذکر بھی کیا تھا۔لیکن پھر بھی مجھے بعد میں واپسی پر خیال آیا کہ دیکھوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کن تاریخوں میں اور کس سال میں آئے تھے۔میرے ذہن میں قریب کی تاریخیں تھیں۔تو چیک کرنے پر یہ خوشی ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی 1905 ء کے نومبر میں گئے تھے۔تو اس طرح پورے 100 سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع میں وہاں مزار پر جانے کا موقع ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مزاروں پر بھی گئے تھے لیکن حضرت kh5-030425