خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد چہارم 501 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں، تیرے آستانہ پر آتا ہوں۔تو جب اس طرح دعا کریں گے، اللہ تعالیٰ پھر توجہ کرتا ہے۔فرمایا ” غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے۔جب تک انسان کے دل سے دوسرے رب اور ان کی قدرومنزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گزارا مشکل ہے۔جھوٹ کے بغیر گزارا مشکل ہے۔بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا رب د بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔سوان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقعہ بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آ سکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اُس دَر کے نہ ہو۔اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔غرض رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً۔۔۔۔الخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں۔آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہوگی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔طرح طرح کے عذاب، خوف، حزن ، فقر و فاقے ، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے ، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن۔جو بے تحاشاد نیاوی مسائل ہیں۔فرمایا ” غرض یہ سب آگ ہیں۔تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔(الحکم جلد 7 نمبر 11 مورخہ 24 / مارچ 1903ء صفحہ 9-10 ملفوظات جلد سوم صفحہ 144-145 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو باتوں کی طرف خاص توجہ دلائی ہے۔ایک تو یہ کہ خالص ہو کر یہ دعا کرنے والا جب دعا کرتا ہے تو شرک سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔فرمایا رَبَّنَا کا