خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد چہارم 502 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 لفظ یہ تقاضا کرتا ہے کہ باقی تمام جھوٹے خدا جو دل میں بنائے ہوئے ہیں ان سے نجات حاصل کر کے میں تیرے پاس آیا ہوں۔دوسرے یہ کہ جب آخرت کی حسنات کے ساتھ دنیا کی حسنات مانگی ہیں تو اس دنیا میں بھی جو انسان کے ساتھ متفرق قسم کے مسائل لگے ہوئے ہیں بعض دفعہ وہ دل کو بے چین کر دیتے ہیں۔جب انسان ان مسائل میں الجھا ہوتا ہے، بعض لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ اس آگ میں جل رہے ہیں۔لوگ بڑے پریشانی کے خطوط بھی لکھتے ہیں۔پس یہ دعا اگر صحیح معنوں میں کی جائے گی تو شرک سے بچاتے ہوئے آخرت کے عذاب سے بھی بچا رہی ہوگی۔کیونکہ جب دعا کرنے والا خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھک رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کی دعا مانگتے ہوئے اس دنیا کی پریشانیوں کی آگ سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ پھر فضل فرماتا ہے۔پس یہ بڑی جامع دعا ہے اور جس طرح پہلی دعا جو میں نے شروع میں پڑھی تھی۔جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ درود شریف کے ساتھ عموماً وہی دعا لکھی ہوتی ہے۔دعا ئیں اور بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔لیکن پہلی دعا کی طرح یہ دعا بھی نماز میں پڑھی جاتی ہے اور عام طور پر یہ دونوں دعائیں ہی جماعت کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں جو میں نے شروع میں اور آخر پر پڑھیں۔اس لئے احمدی اس کو زیادہ پڑھتے ہیں۔اس لئے ہر قسم کی آگ سے بچنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے عبادت بڑی ضروری ہے جس کی شکل اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلی دُعا میں قیام نماز بتائی۔پس اس رمضان میں ان دعاؤں کا صحیح فہم وادراک حاصل کرتے ہوئے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ قیام نماز کا عادی بن جائے اور پھر اس کو اپنی نسلوں میں بھی اور دوسروں میں بھی پھیلانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔