خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 500
500 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم آخرت میں دینے والا ہے وہ مجھے اس دنیا میں دے دے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کہ خدا کی سزا اس دنیا میں حاصل کرو۔تم یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے اللہ تو ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔راوی کہتے ہیں کہ جب اس بیمار نے یہ دعا کی تو اللہ کے فضل سے شفایاب ہو گئے۔صحت مند ہو گئے۔(مسلم كتاب الذكر والدعاء۔باب كراهة الدعاء بتعجيل العقوبة في الدنيا اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تو بہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا اور دین دونوں سنور جاتے ہیں۔اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان دونوں میں آرام اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار (البقرة : 202) اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرام اور آسائش کے سامان 66 عطا فرما اور آنے والے جہاں میں آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو دراصل ربَّنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے۔کیونکہ رَبَّنَا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور ربوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔رب کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔یعنی وہ جو کسی چیز کی انتہا کو آہستہ آہستہ ایک پراسس (Process) میں سے گزار کر انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔اصل میں انسان نے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔بہت سے خدا بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے۔ہوشیار یوں، چالا کیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے۔تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہو کر اس واحد لاشریک بچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربَّنا کی پُر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانے پر نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دل سوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ ربَّنَا یعنی اصل اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور