خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد چهارم 217 خطبہ جمعہ 28 اپریل 2006 ء میر اسلام کہنا۔اللہ نے فضل فرمایا یہاں آپ تک یہاں احمدیت کا پیغام پہنچا اور آپ نے احمدیت کو قبول کر لیا لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اتنا کر لینا ہی کافی نہیں ہے کہ ہم نے مان لیا اور سلام کہ دیا۔بلکہ اپنے اندر تبدیلیاں بھی پیدا کرنی ہیں۔خلافت اور نظام جماعت سے تعلق بھی قائم کرنا ہے۔اور اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔اس بارے میں اب پھر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادت مندوں کے لئے پیدا کر دی ہے۔یعنی ایک موقع پیدا کر دیا ہے ایسے لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں نیکی تھی۔” مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ۔اس بات پر تمہیں کوئی فخر نہ ہو کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے، یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر به سعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا۔یہ ٹھیک ہے کہ ان منکرین سے بہر حال بہتر ہو جنہوں نے مسیح و مہدی موعود کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیا۔اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسن ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔حسن ظن کیا کہ جو دعویٰ کرنے والا ہے وہ سچا ہی ہے اور یہی شخص ہے جس نے آنا تھا تم نے مان لیا اور اس سے تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچاؤ گے لیکن کچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمے کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔وہ ایسا چشمہ ہے جہاں سے پانی نکلتا ہے اس کے قریب تو آگئے ہو جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔”ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔قریب پہنچ گئے ہو اب پانی بھی پینا ہے ” پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے۔یہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اس پانی کو پینے کی بھی تمہیں تو فیق عطا فرمائے۔صرف چشمے کے قریب پہنچ کے کھڑے نہ ہو جاؤ۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔یہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ جو اس چشمے سے پیئے گا وہ ہلاک نہ ہوگا۔کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر جو اسلام کی تعلیم ہے اس پر چلنا، قرآن کریم پر عمل کرنا۔یہ ایسا پانی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے اس چشمے سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کروان میں سے ایک خدا کا حق ہے دوسرا مخلوق کا حق۔اللہ kh5-030425