خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 218

خطبات مسرور جلد چہارم 218 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء کی مخلوق کے حق کیا ہیں۔جیسا کہ آپ فرما چکے ہیں میں نے پہلے بھی اقتباس میں پڑھا تھا۔ایک دوسرے سے سچی ہمدردی ہو۔حدیث میں آتا ہے، مسلمان کو آپس میں اس طرح ہونا چاہئے جس طرح ایک جسم کا حصہ۔جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تمام جسم کو تکلیف پہنچتی ہے پس جماعت کے ہر ممبر کو چاہئے ، ہر احمدی کو چاہئے کہ اس طرح اپنے اندر ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس پیدا کریں کہ جب ایک کو تکلیف ہو تو سب کو تکلیف ہو، اور پھر اس طرح جب ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس پیدا کریں گے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی کو اپنے سے کمتر سمجھیں یا کسی احمدی کے لئے دل میں رنجش پیدا ہو۔ایک دوسرے سے ناراضگیاں پیدا ہوں، شکایتیں پیدا ہوں۔اور اس ہمدردی کو حضرت مسیح موعود نے صرف آپس میں تعلق بڑھانے تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ فرمایا کہ یہی نہیں کہ یہ ہمدردیاں تم آپس میں ہی احمدی احمدی سے رکھو بلکہ فرمایا کہ بظاہر جن کو تم اپنا دشمن سمجھتے ہو یا جو تمہارے سے دشمنی کا سلوک کرتے ہیں، تمہاری مخالفت کرتے ہیں ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح تمہیں نقصان پہنچائیں ، ان کے ساتھ بھی ہمدردی کرو اور ہمدردی کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ان کیلئے دعا کرو اور ان تکلیف دینے والے لوگوں کیلئے بھی اپنا سینہ صاف رکھو۔جب تم اس طرح سینہ صاف رکھو گے، اپنا دل لوگوں کیلئے صاف رکھو گے تو پھر یہی حقیقی معنوں میں رسول کی اطاعت ہوگی اور تم رسول کی اطاعت کرنے والوں میں شمار ہو سکتے ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 135 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی دے“۔جو تمہارے سے تعلق توڑتا ہے اس سے بھی تعلق قائم کرو جو تمہیں نہیں دیتا اس کو بھی دو، کوئی کسی قسم کا تمہارا حق ادا نہیں کرتا تب بھی اس کا حق ادا کرو۔جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کرے“۔(مسند احمد بن حنبل، مسند معاذ بن انس جلد نمبر 5 حدیث نمبر (373) جو تمہیں برا بھلا کہے گالیاں دے اس کو معاف کر دو، نظر پھیر کے اس سے چلے جاؤ بجائے لڑائی کرنے کے۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جس پر چلنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔جب ہم ایسے رویے اختیار کریں گے تو جماعت کے اندر بھی اور ماحول میں بھی درگزر اور قصور معاف کرنے کی فضا پیدا کریں گے۔ایک دوسرے کو معاف کرنے والے ہوں گے۔اور نتیجہ جھگڑوں اور kh5-030425