خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 216

خطبات مسرور جلد چهارم 216 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء قائم فرمائی کہ نمازیں پڑھتے تھے، اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے اس کے آگے گڑ گڑاتے تھے ، روتے تھے۔اس طرح دعائیں کرتے تھے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی سجدے کی حالت میں ایسی کیفیت ہو جاتی تھی جیسے ہنڈیا ابل رہی ہو۔یعنی اس طرح آپ تڑپتے تھے اور روتے تھے اور سینے سے ایسی آواز آتی تھی جیسے ابلتی ہوئی ہانڈی پک رہی ہو۔اس میں سے ابلتی ہوئی ہنڈیا کی آواز آتی ہے۔پس دیکھیں ہمیں کس قدر استغفار کرنی چاہئے اور دعائیں کرنی چاہئیں تا کہ اپنے خدا کو راضی کریں۔پھر ایک بہت بڑا حق جو ایک احمدی مسلمان ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا حق ہے، وہ نظام جماعت کی اطاعت ہے۔نمازوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ زکوۃ بھی ادا کرو اور رسول کی اطاعت بھی کرو۔فرمایا وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون ( النور :57 ) کہ اگر چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو پھر نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔اس آیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے خلافت کا وعدہ ہے جو عبادت کرنے والے ہوں گے اور نیک عمل کرنے والے ہوں گے۔اور عبادت کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے وہ لوگ ہیں جیسا کہ اس آیت میں فرمایا جو نمازوں کو قائم کرتے ہیں، اس طرف توجہ رکھتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر کی گئی مالی قربانی بھی عبادت ہے۔اگر اللہ تعالی کی خاطر آپ مالی قربانیاں کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں، چندے دیتے ہیں تو وہ بھی عبادت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ نمازوں کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔آج اگر آپ دیکھیں تو بحیثیت جماعت صرف جماعت احمدیہ ہے جو ز کوۃ کے نظام کو بھی قائم رکھے ہوئے ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر مالی قربانیاں کرنے والی بھی ہے۔اور اس میں خلافت کا نظام بھی رائج ہے۔پس اس نظام کی برکت سے آپ سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب حقیقی معنوں میں مکمل طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے اور عاشق صادق کی تعلیم پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔آپ نے بیعت کر کے ایک معاملے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر لی، آپ کے اس حکم کو مان لیا کہ جب میر امسیح و مہدی ظاہر ہو تو اگر تمہیں برف کی سلوں پر بھی چل کر جانا پڑے تو اس کے پاس جانا اور kh5-030425