خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد چهارم 106 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء تو دیکھیں ، اب یہ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔فتنہ پیدا کرنے والے، بھڑ کانے والے ان لیڈروں کے کہنے پر جن میں اکثریت مذہبی لیڈروں کی ہے، یہ سب فتنے اُن میں پیدا ہورہے ہیں۔مار دھاڑ ہورہی ہے قتل و غارت ہو رہی ہے کہ قتل کرو تو ثواب کماؤ اور جنت کے وارث بنو گے۔جبکہ اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال رہا ہے اور لعنت بھیج رہا ہے۔پاکستان میں، بنگلہ دیش میں یا دوسرے ملکوں میں جہاں احمدیوں کو بھی شہید کیا جاتا ہے۔یہی ہیں جو جنت کا لالچ دے کر جہنم میں لے جانے والے کام کروائے جاتے ہیں۔بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ یہ جو مسلمانوں کی حرکتیں ہیں ان سے مسلمانوں کے دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں اور مسلمان کی طاقت کم کرتے چلے جارہے ہیں اور ان مسلمانوں کو عقل نہیں آرہی۔بہر حال یہ تو ظاہر وباہر ہے کہ یہ عقل ماری جانا اور یہ پھٹکار اس لئے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نہیں مانا اور نہ ہی مان رہے ہیں نہ اس طرف آتے ہیں اور آپ کے مسیح و مہدی کی تکذیب کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہی ہے اور وہ ہر احمدی کو کرنی چاہئے۔اس طرف پہلے بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ خدا ان کو عقل اور سمجھ دے اور یہ منافقین اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر اسلام کو بدنام کرنے والے اور ایک دوسرے کا گلا کاٹنے والے نہ بنیں۔بہر حال جو کچھ بھی ہے جب اسلام کے دشمن ان مسلمانوں کو کسی نہ کسی ذریعے سے ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو احمدی بہر حال در دمحسوس کرتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں یا منسوب ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان بھٹکے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد کم علمی کی وجہ سے ان لیڈروں اور علماء کی باتوں میں آکر ایسی نامناسب حرکتیں اور کارروائیاں کر جاتی ہے جس کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنتے ہوئے ان لوگوں کو ، ان نام نہاد علماء کے چنگل سے چھڑائے اور یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے انجانے میں یا بیوقوفی میں اور اسلام کی محبت کے جوش میں آکر جو اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں وہ نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ان کو سیدھی راہ بھی دکھائے ، کیونکہ ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے دشمن کو اسلام پر گندا چھالنے کا موقعہ ملتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی توہین آمیز حملے کرنے کا موقع ملتا ہے۔پس ہر احمدی کو آجکل دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ عالم اسلام اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے انتہائی خوفناک حالت سے دو چار ہے۔اگر ہمارے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم kh5-030425