خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد چهارم 105 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء ہے؟ یہ جراتیں جو انہیں یعنی مغربی دنیا میں پیدا ہورہی ہیں ہماری اپنی حالت کی وجہ سے تو نہیں ہور ہیں۔جو صورت ہمیں نظر آتی ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ مغربی دنیا کو پتہ ہے کہ مسلمان ممالک ان کے زیرنگیں ہیں ان کے پاس ہی آخر انہوں نے آنا ہے۔آپس میں لڑتے ہیں تو ان لوگوں سے مدد لیتے ہیں۔یہ جو پابندیاں یورپ کے بعض ملکوں کے سامان پر لگائی گئی ہیں اس کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ بھی ان لوگوں کو پتہ ہے کہ چند دن تک معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہی چیزیں جو بازار سے اٹھالی گئی ہیں، اس وقت مارکیٹ سے غائب ہیں وہی ان ملکوں میں دوبارہ مارکیٹ میں آجائیں گی۔اب ان ملکوں میں جو مسلمان رہتے ہیں وہ بھی یہ چیزیں کھا رہے ہیں، استعمال کر رہے ہیں۔ڈنمارک میں ہی ( ڈنمارک کے خلاف سب سے زیادہ احتجاج ہے ) تقریباً دولاکھ مسلمان ہیں اور کافی بڑی اکثریت پاکستانی مسلمانوں کی ہے وہ بھی تو آخر وہ چیز میں استعمال کر رہے ہیں۔تو بہر حال یہ عارضی رد عمل ہیں اور ختم ہو جائیں گے۔اب دیکھیں ہماری حالت۔یہ جو عراق میں تازہ واقعہ ہوا ہے کہ امام بارگاہ کا گنبد بم دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔تو نتیجتا سنیوں کی مسجدوں پر بھی حملے ہوئے اور وہ بھی تباہ ہورہی ہیں۔یہ کسی نے دیکھنے اور سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ تحقیق کر لیں کہ نہیں ہمیں لڑانے کے لئے دشمن کی شرارت ہی نہ ہو۔کیونکہ یہ بم یہ اسلحہ جوسب کچھ لیا جارہا ہے، یہ بھی تو انہیں ملکوں سے لیا جاتا ہے۔لیکن یہ اس طرح سوچ ہی نہیں سکتے۔ایک تو عقل کے اندھے ہو جاتے ہیں، ان کو غصے اور فرقہ واریت میں سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کرنا ہے۔دوسرے بد قسمتی سے جو منافقت کرنے والے ہیں وہ بھی دشمن سے مل جاتے ہیں جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے اور ان کو سوچنے کی طرف آنے ہی نہیں دیتا۔بہر حال یہ جونئی صورتحال عراق میں پیدا ہوئی ہے یہ ملک کو سول وار (Civil War) کی طرف لے جارہی ہے۔آج کل تو تقریباً شروع ہے۔اور اب وہاں پر لیڈروں کو بڑی مشکل پیش آ رہی ہے کہ یہ صورتحال اب سنبھالی نہیں جائے گی۔مسلمان سے مسلمان کے لڑنے کی یہ صورتحال افغانستان میں بھی ہے پاکستان میں بھی ہے، ہر فرقہ دوسرے فرقے کے بارے میں پر تشدد فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، مذہب کے نام پر آپس میں ایک دوسرے کو مار رہے ہوتے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ (النساء : 94) یعنی جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہوگی اور وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہوگا اور اس کو اپنی جناب سے دور کر دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔kh5-030425