خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 107
خطبات مسرور جلد چهارم 107 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006 ء سے سچا عشق اور محبت ہے تو ہمیں امت کے لئے بھی بہت زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں۔اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جو ہم پہلے بھی کر رہے ہیں۔لیکن آج میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ دعائیں ہمیں کس طرح کرنی چاہئیں۔یہ دعا کرنے کے طریقے اور اسلوب بھی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سکھائے ہیں جن سے ہماری بھی اصلاح ہوتی ہے اور دعا کی قبولیت کے نظارے بھی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی ( خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ) او پر نہیں جاتا۔صلى الله (ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء في فضل الصلواة على النبي علم حدیث نمبر 486) یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ہمیں واضح فرمایا ہے۔جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے کہ إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (الاحزاب:57) کہ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے بھی نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔قرآن کریم میں بے شمار احکام ہیں جن کے کرنے کا حکم ہے اور ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بن جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ٹھہرو گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بن جاؤ گے، جہنم سے بچائے جاؤ گے، جنت میں داخل ہو گے۔یہاں یہ حکم ہے کہ یہ اتنا بڑا اور عظیم کام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو بھی اس کام پر لگایا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ خود بھی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے۔اس لئے یہ ایسا عمل ہے جس کو کر کے تم اُس عمل کی پیروی کر رہے ہو یا اس کام کی پیروی کر رہے ہو جو خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔تو جب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حکموں پر عمل کرنے سے اتنے بڑے اجروں سے نوازتا ہے تو اس کام کے کرنے سے جو خود خدا تعالیٰ کرتا ہے کس قدر نوازے گا۔اور یہ یقیناً خالص ہو کر بھیجا گیا درود امت کی اصلاح کا باعث بھی بنے گا۔اُمت کو رسوائی سے بچانے کا باعث بھی بنے گا۔ہماری اصلاح کا باعث بھی بنے گا۔اور ہماری دعاؤں کی قبولیت کا بھی ذریعہ بنے گا۔ہمیں دجال کے فتنوں سے بچانے کا ذریعہ بھی بنے گا۔احادیث میں درود کے فوائد مختلف روایات میں ملتے ہیں۔ایک روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ kh5-030425