خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 602
602 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم گزاراہی مشکل ہے۔اس کے بغیر گزارا نہیں۔بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہو کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں ہے۔سوان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقعہ بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آ سکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے ان کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس در کے نہ ہو۔اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔غرض رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً۔۔۔۔الخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں“۔الحکم جلد 7 نمبر 11 مورخہ 24 مارچ 1903 ء صفحہ 9-10 ملفوظات جلد سوم صفحہ 144-145 جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے رب کی پہچان کروائے اور صرف اور صرف وہی ذات ہو جس کے آگے ہم سب سجدہ کرنے والے ہوں۔kh5-030425