خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 495

495 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ القُرْآنُ (البقرة:186) سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے“۔یعنی نماز تزکیہ نفس کرتی ہے۔اور فرمایا کہ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جاوے۔اس سے دوری پیدا ہو جائے۔نیکیوں میں ترقی کرے اور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لئے“۔( بدر جلد 1 نمبر 7 مورخہ 12 / دسمبر 1902ء صفحہ 52 - ملفوظات جلد دوم صفحہ 561-562 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس برائیوں سے بچنے کے لئے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اس مہینے میں خاص طور پر ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور یہ کوشش ہو کہ اپنی نمازوں کو سنوار کر ادا کرے اور سنوار کر ادا کرتے رہنے کے لئے دعا کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل ہمیشہ جاری رہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس دعا کا فہم و ادراک عطا فر ماتے ہوئے اس دعا کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہنے کی توفیق دیتا چلا جائے تاکہ ہمیشہ جماعت کے لئے قیام نماز ایک طرہ امتیاز رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی بتائی کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ لرَّحِيمُ (البقرة: 129 ) اے ہمارے رب! ہمیں اپنے دوفرمانبردار بندے بنا دے اور ہماری ذریت میں سے بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر دے اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر تو بہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔یقینا تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو دیکھیں ہمیشہ قیام نماز کو جاری رکھنے اور قائم رکھنے کے لئے عبادتوں کو زندہ رکھنے کے لئے یہ دعا سکھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے گروہ پیدا کرتا چلا جائے جو حقیقت میں عبادت اور قربانیوں کے مقصد اور فلسفے کو سمجھتے ہوئے عبادتیں کرنے والے اور قربانیاں کرنے والے ہوں۔اور اے خدا! یہ سب تیرے خاص فضل اور رہنمائی سے ہوگا۔اس لئے ہمیشہ ایسے لوگ اور گروہ پیدا فرما تارہ جن کو تیری براہ راست رہنمائی بھی حاصل ہوتی رہے، ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو ہنمائی کرنے والے ہوں۔( ہر ایک کو تو علیحدہ علیحدہ نہیں الہام ہوتا۔اور کبھی یہ نہ ہو کہ تیری رہنمائی سے یہ امت محروم ہو جائے۔یہاں اس دعا کی انتہا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہوتی ہے۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ دعا کی اور دنیا نے دیکھا کہ عرب کے ان وحشیوں میں کیا انقلاب آیا کہ وہ لوگ ایسے باخدا انسان بنے جن کی راتیں عبادت کرتے ہوئے اور دن اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانیاں کرتے ہوئے گزرتے تھے۔اور آپ کی یہ دعا صرف آپ کے وقت تک محدود نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ