خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 496
خطبات مسرور جلد چهارم 496 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 کے حضور تا قیامت قبولیت کا درجہ پاگئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کی معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں حاصل ہوئی۔جیسا کہ میں نے کہا اب آپ کی امت اس کے دائمی نظارے دیکھنے لگی ، اس میں دائمی نظارے نظر آنے لگے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو مکمل طور پر کبھی بگڑنے نہ دیا۔ایک ہزار سال کا اندھیرا زمانہ آیا اس میں بھی اللہ تعالیٰ اولیاء امت اور مجددین کے ذریعہ سے عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھاتا چلا گیا۔مجد دین اور اولیاء کے ذریعہ ہمیشہ ایک گروہ ایسار ہا جو صحیح طور پر اس تعلیم پر عمل کرنے والا رہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔پھر مجدد آخر الزماں اور خاتم الخلفاء اور خاتم الاولیاء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے مبعوث فرمایا جنہوں نے اسلام کی صحیح تعلیم اور عبادت کے صحیح طریقے ہمیں سکھائے۔آپ نے ہمیں بتایا کہ موقع ومحل کے حساب سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بجالانے والا ہر صحیح عمل ہی اصل میں صحیح طور پر قربانی اور عبادت کہلا سکتا ہے۔پس جہاں حقوق اللہ کی بجا آوری اور عبادت کا صحیح طریق ضروری ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق حقوق العباد ادا کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے۔اور یہی زندگی کا اصل مقصد ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی طرف ہی اُن کی دعا قبول کرتے ہوئے جھکتا اور رحم فرماتا ہے جو حقوق اللہ بھی ادا کرنے والے ہوں اور حقوق العباد بھی بجالانے والے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیکی کے بارے میں مختلف سوال کرنے والوں کو جو آپ سے پوچھا کرتے تھے ان کے حالات کے مطابق مختلف قسم کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔مثلاً کسی کے سوال کرنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے؟ فرمایا جہاد کرنا ہے۔کسی کو مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے فرمایا کہ تمہارے لئے سب سے بڑی نیکی مالی قربانی ہے۔کسی کو جو عبادتوں میں کمزور تھا فرمایا کہ تہجد کی ادائیگی سب سے بڑی نیکی ہے۔کسی کو جو جہاد سے ڈرنے والے تھے فرمایا کہ جہاد کر نا سب سے بڑی نیکی ہے۔کسی کو رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ بہت بڑی نیکی ہے۔پس حالات کے مطابق عمل کرنا ہی اصل میں صحیح نیکی ہے اور یہ نیکیاں ہی پھر عبادت کا رنگ بھی رکھتی ہیں۔پس اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موعود مسیح نے جن باتوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے وہ عبادتوں اور قربانیوں کے صحیح طریق ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے حملے کی وجہ سے ایک وقت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تلوار کے جہاد کو ضروری قرار دیا تھا تو آج مناسک کا معیار ، قربانی کا معیار قلم کا جہاد ہے تبلیغ اسلام ہے، اسلام کا خوبصورت پیغام جو امن اور صلح کا پیغام ہے، اس کو دنیا میں پہنچانا ہے۔پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن اور اسلام کی تعلیم کوسمجھ کر جو تعلیم ہمیں دی