خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد چہارم 494 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 لئے تھی اور آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے علاوہ کوئی نہیں جو نماز کے قیام کی کوشش کرتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے تو بہت سے نبی پیدا ہوئے لیکن صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر قائم رہنے والے ہی ہیں جو قیام نماز کی کوشش کرتے ہیں۔آج تمام دنیا میں صرف نیک فطرت مسلمان ہیں جو نماز کے قیام کے لئے کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی تمام دنیا میں قیام نماز کو رائج فرمانا تھا، کیونکہ آپ ہی وہ واحد نبی ہیں جو تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو ابوالانبیاء بھی کہا جاتا ہے ان سے بھی یہ دعا کہلوائی جو پیشگوئی کا بھی رنگ رکھتی ہے۔پس یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کا قرآن کریم میں ذکر کر کے اُمت کی بھی ذمہ داری لگا دی کہ قیام نماز کے لئے کوششیں کرتے رہو۔کیونکہ قیام نماز خدائے واحد کے آگے جھکنے اور وحدانیت کو قائم کرنے کی بھی ایک علامت ہے۔پس آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کے جس موعود فرزند اور مسیح و مہدی نے آنا تھا اس نے یہ وحدانیت پیدا کر کے قیام نماز بھی کرنا تھا۔پس آج جماعت احمدیہ کی یہ ذمہ واری لگائی گئی ہے جو مسیح محمدی کی جماعت ہے، جس کو آج دنیا کے کونے کونے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پھیلا دیا ہے، کہ دنیا کے ہر کونے میں جہاں بھی وقت کے لحاظ سے ( مختلف اوقات ہوتے ہیں ) نماز کا وقت آئے تو قیام نماز کی کوشش کرتے رہیں تا کہ اس وجہ سے جماعت احمدیہ بحیثیت جماعت بھی اور ہر احمدی بھی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں۔اکثر ہم میں سے نماز میں درود شریف کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے جو دعائیں پڑھتے ہیں ان میں یہ دعا بھی پڑھتے ہیں۔تو اس پر غور کریں۔ایک فکر کے ساتھ اس دعا کی قبولیت مانگنی چاہئے تا کہ نسلوں میں بھی اور جماعت کے ہر فرد میں بھی قیام نماز کی طرف توجہ رہے۔یہ دعا تو خالص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے کے لئے ہے۔کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول نہ کرے اور لوٹا دے۔رمضان کے ان دنوں میں، جب تقریبا ہر ایک کو نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ ہوتی ہے ایک فکر کے ساتھ ، غور کر کے یہ دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بعد میں بھی قیام نماز ہوتا رہے گا۔اور یہ دُعا یقیناً استجابت کا مقام حاصل کرے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔پس اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہمیں بھی اس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جیسا کہ میں نے کہا آج کل اس کا بہترین موقع ہے۔اور یہی چیز ہے جس سے وہ مقام حاصل ہو گا جس سے ایک بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن کر اس کے قریب ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس برکت کو حاصل کرنے کے لئے یہ موقع عطا فرمایا ہے۔ایک دفعہ پھر ہمیں رمضان میں داخل فرمایا ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔