خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 438

خطبات مسرور جلد چہارم 438 خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 کیفر کردار تک پہنچائے۔ملک میں رہنے والوں کی آنکھیں کھولے۔اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھتے ہیں اور پھر بھی ان لوگوں کو معقل نہیں آتی۔آج اگر ملک بچا ہوا ہے تو احمدیوں کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔اسلئے احمدی بڑے درد سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے ملک کو پاک کرے اور اس ملک کو بچالے۔جیسا کہ میں نے کہا شہید کے بچوں کے لئے بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان پر اپنا فضل فرما تار ہے۔وفات یافتگان کا ذکر ہوا ہے تو اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریق تھا۔ان کے بارے میں آپ نے کیا نصیحت فرمائی کہ کس طرح دعا کی جائے۔آپ کا اسوہ کیا تھا ؟ اس بارے میں چند احادیث بھی پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ اس پر عمل کر کے ہم اپنے لئے بھی اور وفات یافتگان کے لئے بھی اللہ کا رحم اور مغفرت حاصل کرنے والے ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ام سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمی کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو ان کی وفات ہو چکی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی تھیں اور آنحضور نے آتے ہی پہلے ان کو بند کیا۔پھر حضرت ابو سلمی کے اہل میں سے کسی نے نوحہ کی غرض سے بلند آواز نکالی ، اونچی آواز میں ماتم کرنے کی کوشش کی تو نوحہ کی آواز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے لوگوں کے لئے صرف خیر کی بات کرو۔کیونکہ ملائکہ ہر وہ بات جو تم کرتے ہوا سے امانت رکھتے ہیں۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔اے اللہ! ابوسلمیٰ کی بخشش فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہنے والوں میں اس کا اچھا جانشین بنا۔اے رب العالمین ! ہمیں بخش دے اور اس کی بھی بخشش فرما۔اے اللہ ! اس کی قبر کو کشادہ فرما۔اور اس کے لئے اسے منور فرما۔(سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب تغميض المیت۔حدیث نمبر 3118) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا اور اس میں یہ دعا کی۔یہ جنازے کی دعا ہے نو جوانوں کو بھی یاد کرنی چاہیے کہ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَتِنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا۔وَذَكَرِنَا وَأَنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا۔اَللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاحْيه عَلَى الْإِسْلَامِ۔وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيْمَانِ۔اَللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَا بَعْدَهُ - اے ہمارے خدا! ہمارے زندوں کو ، ہمارے وفات پانے والوں کو ، ہمارے چھوٹوں کو ، اور ہمارے بڑوں کو ، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو اور ہم میں سے جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں سب کو بخش دے، اے ہمارے خدا جس کو تو ہم میں سے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ۔اور جس کو تو ہم میں سے وفات دے اُسے ایمان پر وفات دے۔اے ہمارے خدا تو اس مرنے والے کے ثواب سے ہمیں محروم نہ کر اور