خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 439
خطبات مسرور جلد چہارم 439 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 2006 اس کے بعد ہر قسم کے فتنہ سے ہمیں محفوظ رکھ۔(ترمذى كتاب الجنائز باب ما يقول في الصلواة على الميت حدیث نمبر 1024) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد خود بھی استغفار کرتے تھے اور لوگوں سے بھی مخاطب ہو کر فرماتے تھے یہ حساب کا وقت ہے اپنے بھائی کے لئے ثابت قدمی کی دعا مانگو۔اور مغفرت طلب کرو۔(ابوداؤد) كتاب الجنائز باب الاستغفار عند القبر للميت حديث نمبر 3221 طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ خدا جنت میں ایک بندے کا مرتبہ بلند فرماتا ہے تو بندہ پوچھتا ہے اے پروردگار مجھے یہ مرتبہ کہاں سے ملا تو خدا فرماتا ہے کہ تیرے لڑکے کی وجہ سے کہ وہ تیرے لئے استغفار کرتا رہا ہے۔پس اولاد کو اپنے مرنے والوں کے درجات کی بلندی کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی بے حساب جانے دے اور ہم پر بھی رحم اور فضل فرمائے۔حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر طیار کی وفات پر فرمایا۔آل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو۔ان کو ایک ایسا امر در پیش ہو گیا ہے جو ان کو مصروف رکھے گا۔(ابوداؤد کتاب الجنائز باب في صنعة الطعام لاهل البيت۔حدیث نمبر (3132) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے جب کا رقضا کسی بھائی کے گھر میں ماتم ہو جائے یعنی کوئی فوت ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔فرمایا نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 233 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ یہاں اس طرف پوری توجہ نہیں دی جاتی۔ہمسایوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جماعتی انتظام کے تحت لنگر میں جو کھانا پکتا ہے وہیں سے آ جائے۔اگر تو ہمسائے نہ ہوں پھر تو جماعت کا فرض ہے کرتی ہے اور کرنا چاہئے۔لیکن اگر ارد گر داحمدی ہمسائے رہتے ہوں تو ان کو اپنے فرض کو ادا کرنا چاہئے۔اور اس طرف خاص توجہ دیں۔اور دنیا میں ہر جگہ جماعت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔سوگ منانے کے ضمن میں حضرت زینب بنت ابی سلمیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی ، ان دنوں آپ کے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے میری موجودگی میں زردرنگ کی خوشبو منگوائی۔پہلے اپنی لونڈی کو لگائی پھر اپنے ہاتھ اور اپنے رخساروں پر ملی اور ساتھ ہی فرمایا : خدا کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں۔مگر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا