خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد چہارم 437 خطبه جمعه یکم تمبر 2006 ان کی سب سے چھوٹی بیٹی عزیزہ نصرت کے میاں غلام قادر شہید ہوئے تو اس کو بھی بڑا حوصلہ دیا اور خوب سنبھالا اور ہر طرح خیال رکھا۔گو کہ عزیزہ کی اب دوسری شادی ہو چکی ہے لیکن اس کے بچوں کو اور اس کو خود بھی بعد میں سنبھالا دیتی رہیں۔اور ماں کی دعائیں جو سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہیں ، ان کی وہ دعا ئیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان بچوں کے لئے کام آتی رہیں گی۔عزیزہ نصرت اور اس کے بچوں کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عزیزم مرزا غلام قادر شہید کے بچوں کو بھی ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے اور اُن کے والد اور نانی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو ہمیشہ کی طرح خود ہی اپنے فضلوں سے پورا فرما تا رہے۔اور ان بچوں کے دادا دادی کو بھی صحت دے اور ان کو شہید کے بچوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کے دوسرے بچوں کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ نیکیوں پر چلائے۔خلافت سے پیار اور محبت اور اطاعت اور فرمانبرداری اور اخلاص ووفا کا تعلق ان کی خواہش سے بڑھ کر عطا فرمائے۔اور اپنی بزرگ ماں کے لئے ان کو دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔چوتھا ذ کر ایک شہید کا ہے۔ان کا نام ماسٹر منور احمد صاحب ہے۔یہ گجرات کے رہنے والے تھے۔جیسا کہ ظالموں کا ہمیشہ سے احمدیوں کے ساتھ یہ سلوک رہا۔جب دل چاہے، جس احمدی کو مارنے کو دل چاہے مار دیتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔قانون بھی احمدی مقتول کا نام سن کر خاموش ہو جاتا ہے کہ مارنے والے نام نہاد مسلمان نے جنت کمائی ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، جہنم ان کا ٹھکانہ ہے۔بہر حال 22 /اگست کو صبح دو نامعلوم افراد ان کے دروازے پر آئے جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔جب منور صاحب نے دروازہ کھولا ، باہر نکلے تو ان دونوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور ان کو پانچ گولیاں لگیں، فوری طور پر ان کو ہسپتال پہنچایا گیا۔لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر وہیں وفات پا گئے۔ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔بڑا بچہ گیارہ سال کا ہے، پھر 7 سال کا پھر تین سال کا۔اللہ خودان بچوں کو سنبھالنے کے سامان پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔جماعت کے بھی بڑے اچھے کا رکن تھے۔خدمات سرانجام دیتے تھے۔دشمن سمجھتا ہے کہ آج احمدیوں کی ملک میں کوئی نہیں سنتا، قانون انکی حفاظت نہیں کرتا۔اسلئے ان کو شہید کر کے انکے خیال میں قتل کر کے جتنا ثواب کمانا ہے کمالو لیکن ان کو یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت کی راہ میں بہایا ہوا یہ خون تو کبھی ضائع نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ نے تو اس طرح جان قربان کرنے والوں کو زندہ کہا ہے۔پس جو اللہ تعالیٰ کی خاطر مرتے ہیں وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور انکے دشمنوں سے اللہ تعالیٰ خود ہی بدلہ بھی لے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔اللہ تعالیٰ ظالموں کو